ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ نے وزارت تعليم كے تعلقات عامہ سے نقل كيا ہے كہ زن و انقلاب اسلامی كے موضوع پر گذشٹہ روز ۵ فروری كو ايك علمی اور تخصصی نشست كے آغاز میں خواتين كے امور كے دفتر كے انچارج اور وزير كے مشير مہری سويزی نے كہا:استقلال ايك ملت كی غيروں كی غلامی سے نجات كا ذريعہ ہے كہ دشمن اسی غلامی كے ذريعہ قوموں پر ظلم و ستم كرتا ہے
انہوں نے كہا:آزادی كا كلمہ ٬استبداد اور تاريك دور میں حريت كو ظاہر كرتا ہے-
وزير تعليم كی مشير نے كہا: ايران كے اسلامی انقلاب كی تيسری خصوصيت اس كا جمہوری اور عوامی ہونا ہے كہ اس دوران خواتين نے انقلاب كی كاميابی كے لیے اہم كردار ادا كيا ہے جيسا كہ امام خمينی رہ نے فرمايا :خواتين تحريك كی ايجاد میں مردوں سے زيادہ اور ان سے پہلے تبديل ہوئیں-
سويزی نے آخر میں انقلاب كی اہم خصوصيت يعنی اسلامی ہونے كو بيان كيا اور كہا:یہ كلمہ اسلامی انقلاب كی حقيقت اور سمت كو آشكار كرتا ہے
اسی طرح اس نشست میں امام صادق يونيورسٹی كی علمی ھئيت كے ركن ڈاكٹر مہر خانی نے تحريك حسينی كی ايجاد میں مسلمان خواتين كے كردار كے بارے میں گفتگو كی –