ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق مرجع تقليد نے اس تعزيتی پيغام میں كہا ہے كہ ماہ محرم الحرام كی ۲۳ تاريخ كو سامرہ میں ہونے والا عظيم سانحہ ٬ اسلام اورمحمدۖ و آل محمدۖ پر بہت عظيم مصيبت ہے-
انہوں نےمزيد كہا كہ انہدام حرمين صرف ايك ظاہری المیہ نہیں ہے بلكہ اس حادثہ نے پورے عالم اسلام سے اپنی دشمنی كا اعلان كيا ہے-
اس لیے كہ قرآن و حديث پيغمبر كے آئينہ میں اہلبيتۜ كا احترام شيعہ اور سنی سبھی كرتے ہیں-
شيعہ مرجع تقليد نے كہا كہ اس حادثہ كی منصوبہ بندی كرنے والوں كا تعلق ان افراد سے ملتا ہے جنہوں نے طول تاريخ میں اسلام اور قرآن پر بڑی ضربیں لگائئ ہیں-
آيت اللہ فاضل لنكرانی نے كہا كہ اہلبيت كی توہين پيغمبر خدا اور قرآن مجيد كی توہين ہے-
دشمنان اسلام اس بات كو اچھی طرح سمجھ لیں كہ اس طرح كے حادثے سے ہمارے عقائد مزيد مستحكم تر ہوتے جائیں گے-
مرجع تقليد نے كہا كہ تمام مسلمان خاص كر شيعوں كو چاہیے كہ ۲۳ محرم الحرام كو عزادار رہیں اور علماء و خطباء كو چاہیے كہ اس موضوع كے تمام پہلووں پر روشنی ڈالیں اس لیے كہ امامت اسلام و قرآن كا روشن دل ہے-