ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے مطابق اكبر ہاشمی رفسنجانی نے كہا كہ امريكا اور ايران كے درميان تعلقات بہتر ہونے میں اصل ركاوٹ امريكا كا متكبرانہ اور تسلط آميز رویہ ہے ۔ اگر امريكا كی جانب سے ايران كے حوالے سے خير سگالی كا اشارہ مل جائے تو مذاكرات میں حائل ركاوٹیں دور كی جاسكتی ہیں ۔ امريكا نے1980میں تہران میں موجود امريكی سفارت خانے پر حملے كے بعد ايران كے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع كردیے تھے۔ صدر محمود احمدی نژاد بھی كئی بار یہ بات كہہ چكے ہیں كہ امريكا اپنا رویہ تبديل كرے تو اس سے مذاكرات كیے جاسكتے ہیں ۔