ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا سے بات چيت كرتے ہوۓ جناب گوہر نے اس مزار كے بارے میں بتايا كہ اس علاقے كے لوگوں كا كہنا ہے كہ حضرت علی علیہ السلام نے اس گاٶں سے عبور كرتے وقت فرمايا كہ اس كا نام حكم علی ركھا جاۓ لہذا حضرت علی علیہ السلام ۜكے حكم كی بنياد پر اس گاٶں كا نام حكم علی ركھا گيا-
سيد عمران اسی گاٶں كے رہنے والے ہیں جو انتہائی مومن اور محب اھلبيت تھے علاقے كے لوگ انہیں متقی اور پرہيز انسان سمجھتے تھے –سو سال قبل سيد عمران كی وفات ہوئی ليكن آج بھی ان كی يادیں علاقے میں موجود ہیں –
وہ اپنے زمانے كے بہترين قاری قرآن تھے انہوں نے بہت سے شاگردوں كی تربيت كی-
جناب گوہر نے مزيد كہا كہ اس گاٶں میں سيد عمران نے لوگوں كی مدد سے مسجد اور مدرسہ كی تعمير كروائی-
انہوں نے كہا كہ سيد عمران كے زمانے میں ان كی تبليغ كی وجہ سے علاقے كے تمام لوگ نمازی اور ديندار تھے –
سيد عمران كی وفات ۱۹۱۷ ء ماہ مبارك رمضان میں ہوئی ان كی قبر مسلمانوں كے لیے زيارت گاہ بنی ہوئی ہے-