ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق حجة لاسلام زاد سر نے كہا كہ سال ۸۵ كو قائد انقلاب نے سال پيغمبر اعظمۖ قرار دے كر رسول اللہ ۖ كے خلاف عالمی استكبار كے پروپيگنڈے اور مسلمانوں كے درميان ہونے والی خونريزی كو ختم كرنا چاہا تھا ليكن اسلام كے خلاف جس طرح روز بہ روز پروپيگنڈے بڑھتے جا رہے ہیں ويسے ہی مسلمانوں كے درميان تفرقہ میں بھی اضافہ ہو تا جا رہا ہے –پارليمنٹ كے نمائندے نے مزيد كيا كہ سال ۸۵ كو سال پيغمبر اعظم ۖ كانام دے كر قائد انقلاب اسلامی نے تمام حكومتی عہدے داروں اور كارندوں كو بھی یہ پيغام ديا تھا كہ وہ رسول اللہ ۖ كی سيرت پر عمل كریں اور اپنی حكومتی روش میں سركار دو عالمۖ كو اپنے لیے نمونہ عمل بنائیں-