حضرت معصومہ ۜ كی زندگی پر ايك نظر

IQNA

حضرت معصومہ ۜ كی زندگی پر ايك نظر

سياسی گروپ: آپ كا اسم گرامی فاطمہ اور مشہور ترين لقب معصومہ ہے آپ كے والد گرامی حضرت موسی بنجعفر ار مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں یہی خاتون امام رضا ۜ كی والدہ گرامی بھی ہیں لہذا حضرت معصومہ اور حضرت امام رضا ۜ ايك ہی ماں سے ہیں

اپ كی ولادت با سعادت يكم ذيقعدہ ۱۷۳ ھجری قمری كو مدينہ منورہ میں ہوئی آپ ابھی كم سنی ہی میں تھیں كہ والد ماجد كی شہادت ہو گئی لہذا آپ اپنے بڑے بھائی حضرت رضا ۜ كے زير تربيت رھیں-
۲۰۰ ھجری قمری میں امام رضا ۜ مامون عباسی كی دعوت پر مرو آۓ ليكن اس تبعيد آميز سفر میں اپنے ساتھ خاندان كے كسی فرد كو نہ لاۓ آپ كی ھجرت كے ايك سال بعد حضرت معصومہ اپنے بھائی سے ملاقات كی غرض سے اور پيغام ولايت كو عام كرنے كی خاظر اپنے بھائيوں اور بھتيجوں كے ھمراہ خراسان كی طرف سفر پر نكلیں اور راستے كے كئی شہروں میں آپ كا استقبال ہوا اور آپ نے وہاں مومنين اور مسلمانوں كو اپنے بھائی رضاۜ كی مظلوميت سے مطلع كيا اور بنی عباس كی حكومت سے مخالفت كا اظہار فرمايا
جب آپ كا كاروان ساوہ شہر میں پہنچا تو عباسی حكومت كے كچھ آلہ كاروں نے اس كاروان پر حملہ كيا اور تقريبا اس كاروان میں موجود تمام مرروں كو شھيد كرديا حتی بعض روايات كے مطابق حضرت معصومہ ۜ كو بھی مسموم كيا گيا بہر حال يا زياہد غم و الم كی وجہ سے يا زھر جفا كے اثر كے تحت حضرت معصومہ ۜ بيمار ہوئی اور خراسان كی طرف سفر كرنا آپ كے لیے جب مقدور نہ رہا تو آپ نے قم كا رخ كيا اور پوچھا كہ شہر ساوہ سے قم كا كتنا سفر ہے جواب ملنے پر فرمايا مجھے قم لے جايا جاۓ شہر قم ہمارے شيعوں كا مركز ہے جب قم كے بزرگوں نے سنا كہ آپ قم تشريف لا رہی ہیں تو لوگ آپ كے استقبال كے لیے نكلے
اشعری خاندان كے بزرگ موسی بن خزرج نے ناقہ كی مھار كو تھاما اور بہت سے سوار اور پيادہ لوگوں نے آپ كا استقبال كيا آپ ۲۲ ربيع الاول سن ۲۱۰ ھجری قمری كو قم میں وارد ہوئی اور اس شہر میں سترہ دن تك قيام كرنے كے بعد اسی سال ۱۰ ربيع الثانی كو آپ كی وفات ہوئی –آج آپ كا مرقد مطہر قم میں شيعيان اہلبيت كے لیے زيارت گاہ ہے-