محسن رضائی نے ايكنا سے گفتگو كرتے ہوۓ كہا كہ گذشتہ سال كو پيغمبر اكرمۖ كے نام سے موسوم كيا گيا جس كے اچھے نتائج سامنے آۓ اور اسی كے تناظر میں اس سال كو قومی اتحاد اور اسلامی وحدت كا سال قرار ديا گيا ہے-
انہوں نے كہا كہ امت اسلامی كے درميان اختلاف ايجاد كرنا اسلام دشمن طاقتوں كا پرانا طريقہ كار ہے وہ اس سے اسلام كی ترقی میں سد راہ بننا چاہتے ہیں انہوں نے مزيد كہا كہ رھبر كی با بصيرت نگاہ نے وقت كے تقاضے كو صحيح جانچ كر اس سال كا نام انتخاب كيا ہے اور اس علاقے سے دشمن طاقتوں كو باہر نكالنا اور ان كے اسلام كے خلاف صف ہر حد كو صرف وحدت كلمہ سے ہی نا كام بنايا جا سكت اہے
انہوں نے آخر میں كہا كہ قومی اور مذھبی اتحاد تك پہنچنے كے لیے مشتركات كو مضبوط كر كے زبانی اتحاد سے عملی اتحاد كی طرف قدم بڑھانے كی ضرورت ہے-