ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق محروم اور پسماندہ علاقوں كے طلباء نے آيت اللہ مكارم شيرازی سے ملاقات كی جس میں انہوں نے فرمايا دشمنوں كی جانب سے ان علاقوں كو بھاری نقصان پہنچا ہے لہذا پسماندہ علاقوں مں خدمت كرنا جہاد كی مانند ہے –
انہوں نے قرآن و احاديث كی تبليغ كو عبادت سے بھی افضل قرار ديتے ہوۓ كہا كہ اگرچہ اسلام كی نظر میں عبادت كی بہت اہميت ہے ليكن عالم كی خدمت كے مقابلہ میں ان عبادتوں كا ثواب كم ہے -
مرجع تقليد نے دشمنوں كی جانب سے مذھب اھلبيت علیھم السلام پر ہونے والے مسلسل حملوں كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ مكہ اور مدينہ میں وہابيوں كی طرف سے كچھ مزدور تعينات كیے گۓ ہیں جو شيعہ اور ان كے عقائد پر حملہ كرتے ہیں وہ عمرہ كے درميان شيعہ جوانوں كو زبردستی وہ كتابیں ديتے ہیں جو جھوٹ ٬الزام اور افتراء سے پر ہیں –وہابيوں كی اس روش نے ميرے قلب كو جريحہ دار كر ديا ہے اور اس كے خاتمے كے لیے میں مسلسل كوشش كر رہا ہوں -
آيت اللہ العظمی ناصر مكارم شيرازی نے كہا عصر حاضر اسلامی جمہوریہ ايران علاقے كی بڑی طاقت ہے جب كہ اس سے پہلے خاص كر حزب اللہ سے اسرائيل كی شكست سے قبل علاقے میں اسرائيل كو بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا انہی شرائط میں دشمنياں بڑھ رہی ہیں اور ہماری ذمہ دارياں بھی سنگين سے سنگين تر ہوتی جا رہی ہیں –