ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق صدر مملكت جناب احمدی نژاد نے سامرا میں فرزندان رسول (ص) حضرت امام علی النقی اور حضرت امام حسن عسكری علیہما السلام كے روضے میں دہشت گردانہ بم دھماكے اور روضے كی بے حرمتی كی شديد الفاظ میں مذمت كی ہے ۔صدر جناب احمدی نژاد نے آج شہر شاہرود میں عوامی اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ عراق میں قابض افواج كے زير سایہ اور ان كی نااہلی كے بنا پر دشمن جری ہوگئے اور دوبارہ سامرا كے مقدس روضے پر حملہ كيا ہے صدر جناب احمدی نژاد نے عراق میں امن قائم كرنے میں قابض افواج كی ناتوانی كی مذمت كرتے ہوئے كہا كہ اگر حالات ايسے ہی رہے تو عراق سے نكلنے كے لئے قابض افواج پر سارے دروازے بند ہوجائیں گے اور عراق ان كا قبرستان بن جائے گا ۔قابل ذكر ہے وزارت خارجہ كے ترجمان محمدعلی حسينی نے سامرا میں مقدس روضوں پر دہشت گردانہ حملے كی مذمت كرتے ہوئے كہا یہ اقدام عراقی قوم كے اتحاد كے دشمنوں كا كام ہے انہوں نے مقدس روضے پر دہشت گردوں كے حملے كو مجرمانہ اور اسلام مخالف كارروائی قرارديتے ہوئے كہا كہ اس طرح كی كارروائيوں كا مقصد فرقہ واريت اور اسلامی مذاہب میں منافرت پھيلانا ہے انہوں نے كہا كہ مقدس مقامات كی سكيورٹی فراہم كرنے میں قابض افواج كی غفلت سے ايسے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔ايرانی پارليمنٹ كے سربراہ حدادعادل نے بھی سامرا كے مقدس روضے پر دہشت گردوں كے حملے كی مذمت كی اور كہا كہ اس سانحے كے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرق وسطی كے تيل كی لالچ میں علاقے پر لشكر كشی كی ہے ۔عراق كے بزرگ مرجع تقليد آيت اللہ العظمیٰ سيستانی نے سامرا میں فرزندان رسول امام علی نقی اور امام حسن عسكری علیہما السلام كے روضہ اقدس میں دہشت گردانہ كارروائی كی مذمت كی ہے ۔
آيت اللہ العظمی سيستانی نے اس دہشت گردانہ كارروائی كی مذمت كرتے ہوئے عوام سے صبر و تحمل سے كام لينے كی اپيل كی ہے ۔ادھر صدر گروہ سميت بعض عراقی گروہوں نے القاعدہ سے وابستہ انتہا پسند گروہوں بعثيوں اور صداميوں كو سانحہ سامرا كا ذمہ دار قرارديا ہے ۔عراقی گروہوں نے آج بيانات جاری كركے عوام بالخصوص اہل تشيع سے صبر و ضبط كا مظاہرہ كرنے كی اپيل كی ہے ان بيانات میں آيا ہے كہ سانحہ سامرا كا مقصد عراق میں مذہبی اور فرقہ وارانہ فتنے پھيلانا ہے ۔قابل ذكرہے عراق كے ریڈيو اور ٹی وی چينلوں نے اپنی معمول كی نشريات روك كر قومی ترانے نشر كئے اور عراقی حكومت نے بھی خاص طور سے سانحہ سامرا میں فرزندان رسول (ص) كے روضہ اقدس میں دہشت گردانہ كارروائی پر تعزيت پيش كرتے ہوئے كہاہے كہ اس دہشت گردانہ كارروائی میں قابض افواج ملوث ہیں اور وہ اس طرح عراق میں باقی رہنے كا بہانہ پيدا كررہی ہیں ۔قم كے دينی تعليم كے عالمی مركز نے اپنے بيان میں كہاہے كہ اس واقعے میں عالمی صیہونيت كا ہاتھ صاف دكھائی دے رہا ہے اور یہ لوگ فرقہ واريت كو ہوا دے كر اپنے مذموم اہداف تك پہنچنا چاہتے ہیں ۔حسينی بوشہری نے كہا كہ دشمنان اسلام بالخصوص امريكہ عراق میں شيعہ اور سنی اختلافات كوہوادے رہے ہیں ليكن علماء عراق بالخصوص آيت اللہ العظمی سيستانی نےفرقہ وارانہ اختلافات كو ختم كرنے كے لئے نہايت اہم كردار ادا كيا ہے ۔
۱۳۳۴۲۲