ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق وہابی علماء كے مقدس مقامات كے انھدام سے متعلق صادر ہونے والے فتوی كی مذمت كرتے ہوۓ حجۃ الاسلام حسينی بوشہری نےكہا كہ اس طرح كا فتوی كوئی نيا فتوی نہیں ہے اور وہابی حضرات در حقيقت اسلامی معاشرے سے جدا ہیں اور اگر ہم مسلمانوں كے مابين اتحاد و يكجہتی بر قرار كرنا چاہتے ہیں تو پہلے ان افراد كو بے نقاب كرنا ہوگا جو امت اسلامیہ كے درميان فرقہ واريت كو ہوا دے رہے ہیں –
انہوں نے مزيد كہا كہ مسلمانوں كے مابين جتنے اختلاف زيادہ بڑھیں گے اتنا ہی عالمی استكبار اپنے مفادات میں كامياب ہو گا-
جناب حسينی بو شہری نے كہا كہ وہابيوں كے اس فتوے كا ڈٹ كر مقابلہ كرنا چاہیے اور فتوے كی مذمت كے ساتھ ساتھ مراجع تقليد اور اسلامی جمہوریہ ايران كی جانب سے بھی ايسا قدام سامنے آنا چاہیے جس سے وہابيوں كو یہ اندازہ ہو جاۓ كہ ايسا نہیں ہو سكتا كہ جب وہ چاہیں ايسا فتوی صادر كر دیں-
147031