قائد انقلاب اسلامی نےعراقی وزير اعظم سے ملاقات میں شيعہ سنی اتحاد كو ايك فريضہ قرار ديا

IQNA

قائد انقلاب اسلامی نےعراقی وزير اعظم سے ملاقات میں شيعہ سنی اتحاد كو ايك فريضہ قرار ديا

سياسی گروپ : عراق میں شيعہ اور سنی كے درميان اتحاد فريضہ اور واجب ہے اور سب عراقيوں كو چاہیے كہ وہ ملك جل كر عراق كے لیے كام كریں اور نوری المالكی كی حكومت كو مضبوط كریں –


ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق عراق كے وزير اعظم نوری مالكی نے جمعہ كی عصر كو قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای سے ملاقات كی اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے فرمايا عراق كی اس وقت سب سے بڑی مشكل امريكہ اور اس كے اتحاديوں كی وہاں پر موجودگی ہے اور وضاحت كی كہ اسلامی جمہوریہ ايران كا ہميشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے كہ عراق كو ايك خود مختار ملك ہونا چاہیے اور وہاں پر عوام كی منتخب كردہ حكومت ہونی چاہیے اور عراق كی موجودہ حكومت عوامی حكومت ہے اور اسلامی جمہوریہ ايران اس كی مكمل حمايت كرتا ہے –
اس ملاقات میں جو كہ مشہد مقدس میں ہوئی قائد انقلاب اسلامی نے اس بات پر خوشی كا اظہار كيا كہ عراق كے وزير اعظم اور اس كی كابينہ لوگوں كی مشكلات كو حل كر رہے ہیں –
آپ نے مشكلات پر قابو پانے كا سب سے بڑا عامل عراق میں تمام اقوام كے درميان اتحاد و اتفاق كو قرار ديا اور فرمايا كہ عراق كے سنی ٬شيعہ عرب ٬ كرد اور تمام اقوام كے درميان اتحاد ايك فريضہ ہے اور عراق كے تمام گروپوں كو عراق كی ترقی كے لیے ايك دوسرے سے تعاون كرنا چاہیے اور نوری مالكی كی حكومت كو استحكام بخشنا چاہیے –
153307