كينیڈا میں حجاب كا قومی دن

IQNA

كينیڈا میں حجاب كا قومی دن

كينیڈا میں مسلمان خواتين كے حجاب اوڑھنے پر تنازعات كے بعد ان سےاظہار يكجہتی كے لیے مسلم و غير مسلم خواتين نے ملك بھر میں ’قومی حجاب ڈے‘ منايا ہے۔







ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی (ايكنا) نے بی بی سی كے حوالے سے كھا هے كه

كينیڈا میں اكتوبر كا مہينہ اسلامی ثقافت اور خواتين میں چھاتی كے كينسر كے بارے میں آگاہی كے طور پر منايا جاتا ہے۔ جس وجہ سے اس دن كو ’پنك‘ يعنی گلابی حجاب ڈے كا نام ديا گيا ہے۔

جمعہ كے روز كينیڈا بھركی بيشتر يونيورسٹيوں اور كالجوں میں مسلم اور غيرمسلم طالبات نے پہلے قومی حجاب ڈے كے موقع پرگلابی رنگ كے حجاب اوڑھ ركھے تھے۔

اس موقع پر مختلف اسلامی وغيراسلامی تنظيموں نے غير مسلم خواتين و طالبات میں گلابی رنگ كے حجاب تقسيم كیے اور يونيورسٹيوں میں ہر طرف مسلم و غير مسلم طالبات گلابی حجاب اوڑھے ايك دوسرے كے ساتھ مل كر مسلمان خواتين كے ساتھ اظہار يكجہتی كر رہی تھیں۔

دنيا كے كئی دوسرے ممالك كی طرح گزشتہ چند سالوں میں كينیڈا میں حجاب اوڑھنے پرتنازعات كے واقعات میں تيزی آئی ہے۔

ان واقعات میں مسلمان خواتين طالبات اور خواتين كھلاڑيوں كے حجاب اوڑھنے پر كئی متنازعہ واقعات كے بعد كينیڈا میں حجاب كے بارے میں آگاہی كی تحريك نے زور پكڑا ہے۔ اس دن كو منانے میں ايك عيسائی خاتون فرانسيسی نژاد كينیڈين پروفيسر ميريل واكر نے اہم كردار ادا كيا ہے۔

فرانس میں حجاب اوڑھنے پر تنازعات كے بعد ھيملٹن شہر میں واقع مشہور ميك ماسٹر يونيورسٹی میں تعينات اس فرانسيسی شعبہ كی پروفيسر ميريل واكر نے يونيورسٹی كے كچھ مسلم و غير مسلم طلباوطالبات كو ساتھ ملا كر اس برس اپريل كے مہينے میں يونيورسٹی كيمپس پر حجاب ڈے منايا جس كے بعد پروفيسر ميريل واكر كو نسلی تعصب كے واقعات كا سامنا بھی كرنا پڑا مگر انہوں نے اس حجاب ڈے كو قومی سطح پر منانے كا اعلان كيا اور آہستہ آہستہ كينیڈا بھر كی يونيورسٹيوں اور كالجوں میں قائم مسلم سٹوڈنٹس ايسوسی ايشنز اور ديگر غير مسلم طالبعلم اور سماجی و انسانی حقوق كی تنظيموں نے اس قومی حجاب ڈے كو مل كر منايا ہے۔ اس دن كو منانے میں فيس بك نامی ويب سائیٹ كا ذكر بھی ضروری ہے۔

جب اس قومی حجاب ڈے كی خبر مشہور ويب سایٹ فيس بك كا استعمال كرنے والی طالبات كو ملی تو انہوں نے اس دن كو عورتوں میں چھاتی كے كينسر كی ريسرچ كی آگاہی میں مدد كرنے كے لیے اس دن كو قومی حجاب ڈے كی بجائے نيشنل پنك حجاب ڈے كا نام دے ديا۔ جس كے بعد فيس بك پر ہزاروں طالبات نے اس دن كو منانے كا اعلان كيا اور يوں اس دن كا نام قومی حجاب ڈے سے بدل كر گلابی حجاب ڈے كے نام سے مشہور ہو گياـ

اس موقع پر بی بی سی سے گفتگو كرتے ہوئے پروفيسر ميريل واكر نے كہا كہ وہ مسلمان عورتوں كے حقوق كے لۓ ہميشہ لڑتی رہیں گی اور وہ ان كے مسائل كو سمجھنے كے لیے اسلامی تعليم بھی حاصل كر رہی ہیں۔ انہوں نے مزيد كہا كہ ميرا مذہب عيسائيت ہے اور ميرا اسلام قبول كرنے كا ابھی كوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے كہا كہ وہ فرانس میں مسلم خواتين كے حجاب اوڑھنے كے تنازعہ پر خوش نہیں ہیں اور عنقريب وہ اپنے آبائی ملك فرانس میں بھی اسی طرز پر ايك حجاب ڈے منعقد كرنے كا ارادہ ركھتی ہیں۔

اس حجاب ڈے كے موقع پر يونيورسٹی آف ٹورانٹو كی طالبہ كيتھرين ونسٹن نے كہا كہ آج حجاب پہن كر محسوس ہوا ہے كے مسلم خواتين كس طرح محسوس كرتی ہیں۔

كينیڈين اسلامك كانگرس كی نائب صدر وحيدہ واليانتے نے بی بی سی كو ايك انٹرويو كے دوران بتايا كہ آج كادن منانے كا اہم مقصد یہ تھا كہ اسلام اور دوسرے مذاہب كے مابين ہم آہنگی پيدا كی جائے۔ انہوں نے كہا كہ اس دن چھاتی كے كينسر كی ريسرچ كے لیے آگا ہی ضروری ہے ۔