{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كے شعبہ سيستان و بلوچستان كی رپورٹ كے مطابق ايران كی قومی سلامتی كونسل میں قائد انقلاب اسلامی كے نمائندہ علی لاريجانی نے مذاھب اسلامی كانفرنس كی افتتاحی تقريب سے خطاب كيا ، ان كے خطاب كا عنوان ٫٫ قومی اتحاد اور اسلامی وحدت میں مذاھب كا كردار ٬٬ تھا ، جس میں انہوں نے كہا كہ اتحاد اسلامی كے نظریہ كا مفہوم اور معنی یہ ہے كہ ہم مختلف اسلامی مذاھب كی واقعيت كو قبول كریں ۔ انہوں نے كہا كہ ہمیں مختلف مذاھب اسلامی سے سرو كار ہے اور اگر سب مذاھب ايك ہی ہوتے تو پھر اتحاد كا كوئی معنی ہی نہ ہوتا ۔
انہوں نے كہا كہ ہر اسلامی مذھب كی اساس اور بنياد اس كی اپنی تاريخ ، منطق اور فقہی اصول پر استقرار ہے اور یہ سب مذاھب آپس میں مربوط ہیں اور اہم نكتہ یہ ہے كہ یہ تمام مذاھب سنت نبوی سے ہم آہنگ معاشرے كے لیے رواداری كا مظاہرہ كریں ۔ انہوں نے اسلامی وحدت كے اثرات اور مسلمانوں كے درميان اختلافات كے برے نتائج كا ذكر كرتے ہوۓ كہا كہ اسلامی اتحاد كو قبول نہ كيا جاۓ تو پھر نزاع اور اختلاف ہی ہمارا مقدر ہوگا جس سے دشمنان اسلام كو فائدہ پہنچے گا ۔ آج مسلم ممالك كے درميان اختلافات مسلمانوں كے مفاد میں نہیں ہیں اور اسلام كی جس طرح آج تصوير كشی كی جا رہی ہے اس سے مسلمانوں كی حيثيت كو ٹھيس پہنچائی جا رہی ہے اور دشمنان اسلام كی پوری كوشش ہے كہ اس بری تصوير كو اسلامی ممالك میں ہی ايجاد كيا جاۓ ۔
انہوں نے كہا كہ آج امريكی سر عام یہ كہہ رہے ہیں كہ ہمیں امريكی طرز زندگی اور ثقافت ان ممالك میں رائج كرنا كيونكہ ان كا كہنا ہے كہ اسلامی ممالك میں رائج زندگی كے طريقے شدت پسندی پر مبنی ہیں اور امريكيوں كی پوری كوشش ہے كہ اپنے پليد مقاصد تك پہنچنے كے لیے وہ اسلامی ممالك كے كچھ كمزور نكات كو سامنے لا كر یہ ظاہر كریں كہ مسلمان آپس میں مل جل كر زندگی نہیں گذار سكتے اور ان كے اندر بھی اجتماعی زندگی گذارنے كی صلاحيت موجود نہیں ہے ۔
اسلامی مذاھب كے درميان اختلافات سے حد اقل جو نقصان ہو سكتا ہے وہ یہ ہے كہ اس سے عالمی سطح پر اسلامی تفكر كے خلاف انگشت نمائی كی جا سكتی ہے ۔ 215629