{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كے شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق حوزہ نيوز سنٹر نے لكھا ہے كہ آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی نے اس ملاقات میں فرمايا كہ آج وہابيت یہ چاہتی ہے كہ تاريخی آثار كو محو كر دے حتی كہ وہ رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں ، كی بھی مخالفت كرتے ہیں ، اگر آج یہ آثار محو كر دیۓ گۓ تو اس سے تاريخ بغير سند كے رہ جاۓ گی ، ہماری پوری جد و جہد كا رخ اس طرف ہونا چاہیے كہ دوسرے مقدس مقامات كی طرح جنت البقيع كی بھی تعمير نو كی جاۓ ۔ انہوں نے سامراء میں حرمين عسكريين علیہ السلام كی تخريب كے حوالے سے كہا كہ یہ شيعوں كے لیے بڑا امتحان تھا اور اس امتحان سے ہمیں سر بلند ہو كر باہر آنا ہے تا كہ تاريخ میں یہ حقيقت ثبت ہو جاۓ كہ شيعہ اور اہلبيت علیھم السلام كے پيرو كار مصائب و آلام كے سامنے كس طرح رد عمل ظاہر كرتے ہیں ، آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی نے فرمايا كہ مقدس مقامات كی تعمير نو تمام شيعيان حيدر كرار كی ذمہ داری ہے اور اس راستے میں جو كوششیں بھی ہوں گی وہ قابل تحسين اور امام زمانہ عجل اللہ تعالہ فرجہ الشريف كی خوشی كا باعث ہیں ۔ انہوں نے كہا كہ سامراء كے سياسی مسائل تدريجا حل ہو جائیں گے اور امن عامہ بحال ہو جاۓ گا ۔ انہوں نے كہا كہ اگر میں اس تعمير میں ايك ادنی مزدور كی حيثيت سے كام كروں تو یہ ميرے لیے بہت بڑا افتخار ہو گا ۔ انہوں نے شيعيان حيدر كرار كی ان مقدس مقامات كے تعمير نو میں شركت كو بہت بڑا افتخار قرار ديا اور كہا كہ اہل سنت كو اہل بيت علیھم السلام كی نسبت معاندانہ رویہ اختيار كرنے سے باز ركھا جاۓ اور ان كی سہم امام سے مدد كی جاۓ كيونكہ ان میں سے بعض اہل بيت علیھم السلام سے محبت كرتے ہیں ۔
217252