آيت اللہ مكارم شيرازی : مسلمانوں كو اسلام دشمن طاقتوں كی تفرقہ اندازی سے ہوشيار رہنا چاہیے

IQNA

آيت اللہ مكارم شيرازی : مسلمانوں كو اسلام دشمن طاقتوں كی تفرقہ اندازی سے ہوشيار رہنا چاہیے

سياسی و سماجی گروپ : آيت اللہ مكارم شيرازی نے مسلمانوں كو دشمنوں كی سازشوں اور ان كی تفرقہ اندازی سے ہوشيار رہنے كی تاكيد كی ۔
{ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كے شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ مكارم شيرازی نے عزاداری كے متعلق استفتاءت كا جواب ديتے ہوۓ كہا كہ عزاداران امام حسين علیہ السلام كو اس بات پر توجہ دينی چاہیے كہ مبادا جاہل افراد اپنی زبان پر كفر آميز كلمات جاری كریں اور عزاداران سيد الشہداء علیہ السلام كو چاہیے كہ وہ اپنے جسم اس قسم كے ضرر نہ پہنچائیں كہ جو عرف عام میں مذھب كی كمزوری كا موجب بنے اور دشمن اس كو بہانہ بنا كر اس سے استفادہ كریں ۔
انہوں نے مزيد كہا كہ يقينا شعائر حسينی علیہ السلام السلام كے افضل ترين شعائر میں سے ہے اور یہ شعائر ہم تك ائمہ اہل بيت علیھم السلام كے ذريعے پہنچے ہیں اور ہم اب تك عاشورا حسينی علیہ السلام كی عظمت كو درك نہیں كر سكتے ہیں ۔
انہوں نے كہا كہ یہ عزاداری طول تاريخ میں ہمارے مذھب كی محافظ رہی ہے ، انقلاب اسلامی ايران كی كاميابی ، آٹھ سالہ جنگ میں فتح ، حزب اللہ لبنان كی كاميابی اور عراق كے شيعوں كی كاميابياں اسی عزاداری كی مرھون منت ہیں اور اگر یہ عزاداری اور عاشورا نہ ہوتی تو آج ايران ، عراق اور لبنان میں كچھ اور ہی صورت حال ہوتی ۔
آيت اللہ مكارم شيرازی نے كہا كہ عزاداری سيد الشھداء علیہ السلام كے اندر قوت جاذبہ اس قدر زيادہ ہے كہ اس سال چھلم حسينی علیہ السلام كے موقعہ پر خطرات كے باوجود ايك كروڑ زائرين كربلا معلی میں جمع ہوۓ ۔
مرجع تقليد نے كہا كہ میں نے یہ منظر ديكھا كہ زائرين پا برھنہ اپنے شير كوار بچوں كے ہمراہ اپنے مقصد كی طرف حركت كر رہے ہیں تو مجھے یہ خواہش پيدا ہوئی كہ كاش میں بھی ان كے درميان ہوتا یہی وجہ ہے كہ دشمن اس تاك میں ہے كہ وہ عزاداری كے اندر خرافات ايجاد كر كے اس كی عظمت كو كم كر دے میں یہاں پر ضروری سمجھتا ہوں كہ عزاداران حسينی علیہ السلام كو مندرجہ ذيل نكات كی طرف متوجہ كروں :
۱ : ہمیں آج ہر زمانے سے زيادہ وحدت اور اتحاد كی ضرورت ہے يورپی ممالك سب اكٹھے ہو كر پيغمبر اسلام صلی كی شان میں گستاخی كر رہے ہیں ، اسرائيل مسلسل فلسطينی مسلمانوں كا قتل عام كر رہا ہے اور امريكہ كی مدد سے حزب اللہ لبنان كی نابودی كا نقشہ تيار كر رہا ہے ، عراق میں ہر روز بھائی اور بہنوں كو وبای شھيد كر رہے ہیں اور سپر پاورز ہمارے ملك كے خلاف سازشیں تيار كرنے میں مصروف ہیں ۔ ان حالات میں ہمیں زيادہ سے زيادہ اتحاد كی ضرورت ہے تاكہ ہم دشمن كا مقابلہ كر سكیں ۔
۲ : ہمیں عزاداری سيد الشہداء كو پہلے سے بھی زيادہ پر شكوہ انداز میں منانا چاہیے البتہ عزاداری ائمہ معصومين علیھم السلام كے فرامين كے مطابق ہونی چاہیے اور علماء كی سرپرستی میں ہونی چاہیے ليكن عزاداران حسينی علیہا لسلام كو ہوشيار رہنا چاہیے كہ كوئی نا آگاہ كفر آمنيز كلمات اپنی زبان سے جاری نہ كرے كہ جس سے دشمن استفادہ كر كے ہمارے مذھب كے خلاف پروپيگنڈہ كرے ۔
۳ : خطباء عظام اور ذاكرين كرام كو چاہیے كہ وہ لوگوں كو اتحاد و وحدت كی دعوت دیں اور لوگوں كو سيد الشھداء علیہ السلام كے قيام كے مقاصد سے آگاہ كریں ان كی آزادی ، عزت اور شرافت كا درس دیں لوگوں كو امر بہ معروف اور نھی از منكر كریں اور انہیں ظلم اور فساد سے مقابلے كی دعوت دیں ۔
۴ : میں ان تمام لوگوں كا شكریہ ادا كرتا ہوں كہ جنہوں نے ان دو مہينوں میں مجالس عزا اور عزاداری سيد الشہداء كے سلسلے میں زحمتیں گوارا كی ہیں اور خداوند عالم كے لطف و كرم ، امام حسين علیہ السلام كے علم كے ساۓ میں اور امام زمانہ عج ﴾ كی خاص عنايتوں كے وسيلے سے ملت ايران كی ترقی اور سر بلندی كے لیے دعا گو ہوں ۔
اور تمام عزاداران سيد الشھداء سے درخواست كرتا ہوں كہ اپنی صفوں كے اندر اتحاد و اتفاق كو برقرار ركھیں اور كہیں ہماری یہ عظيم عزادای ہمارے اختلافات كی نذر نہ ہو جاۓ ۔
229590