بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق ايرانی پارليمنٹ كے سپيكر جناب غلام علی حدّاد عادل نے گزشتہ روز 6 اپريل ۲۰۰۸ ء كو سال جديد كی مبارك باد ديتے ہوئے اميد ظاہر كی كہ نيا سال ملت ايران كے لئے ترقی اور سر بلندی كا سال ہو گا۔
انھوں نے قائد انقلاب اسلامی كی جانب سے سال جديد كو خلاقيت اور پيشرفت كا سال قرار دينے كے حوالے سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ اس نام كی چند ايك مناسبتیں ہیں پہلی مناسبت تو یہ ہے كہ انقلاب اسلامی ملت ايران كی خلاقيت اور پيشرفت ہے اور چونكہ خلاقيت اور پيشرفت انقلاب اسلامی كی بنياد ہے اس لئے اس خلاقيت اور پيشرفت كو تمام امور میں جاری وساری ہونا چاہیے۔
دوسری مناسبت یہ ہے كہ نشاط اور پيشرفت موسم بہار كا پيغام ہے بہار نشاط اور نئے پن كا جلوہ ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے بھی موسم بہار كی اس خصوصيت كو اپنانے كی ملت ايران سے درخواست كی ہے۔ ايرانی پارليمنٹ كے سپيكر نے اپنی گفتگو كے اختتام میں كہا كہ مغربی ممالك دولت كے پجاری ہیں اور پيسہ ان كی سب سے بڑی كمزوری ہے اور جب بھی ان كے اقتصاد كو خطرات لاحق ہوں تو وہ اپنی پاليسيوں میں تبديلی لے آتے ہیں۔
دنيائے اسلام كو چاہیے كہ وہ اسلامی اقدار كی توھين كرنے والے ممالك كا اقتصادی بائيكاٹ كر كے انہیں اس توھين كا جواب دیں۔
236803