بدگمانی اور سوء ظن ، معاشرے میں اختلاف اور محبت و دوستی كے خاتمھ كا سبب ہے

IQNA

بدگمانی اور سوء ظن ، معاشرے میں اختلاف اور محبت و دوستی كے خاتمھ كا سبب ہے

سياسی گروپ: امام جمعہ شھداد نے سوء ظن كو اختلاف كا سبب قرار ديتے ہوئے كہا كہ اس كی وجہ سے اسلامی معاشرے سے محبت اور دوستی ختم ہو جاتی ہے۔
امام جمعہ شھداد حجة الاسلام والمسلمين اللہ وردی نے ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی'' ايكنا'' سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ سوءظن سے بچنے كاذريعہ یہ ہے كہ اگر كسی شخص كے بارے میں كوئی بات سنیں توجب تك ہمارے لئے ثابت نہ ہو جائے اسے قبول نہ كریں يا یہ كہ اس بات كا ذكر خود اس شخص سے كریں تاكہ اس كی سچائی كے بارے میں معلوم ہو جائے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ اسلامی احكام میں اس مسئلہ كی بارہا تاكيد كی گئی ہے كہ جب تك كسی بات كے بارے میں انسان كو اطمينان حاصل نہ ہو جائے اسے لوگوں كے درميان بيان نہ كرے اسلئے كہ ممكن ہے كہ وہ ايك راز ہو يا یہ كہ اسے بيان كرنے كی ضرورت نہ ہو۔ جناب اللہ وردی نے حديث پيغمبر كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ كنجوسی اور سوءظن یہ وہ دو خصلتیں ہیںجو مومن میں نہیں پائی جاتیں۔ امام جمعہ شھداد نے ايك حديث پيغمبر﴿ص﴾ بيان كی جس میں آنحضرت نے فرمايا: يا علی﴿ع﴾ كنجوس، ڈرپوك اور لالچی آدمی سے دوستی نہ كرو۔ اسلیے كہ كنجوس آدمی تمھیں مستقبل میں حاصل ہونے والے مقصد سے محروم كر دے گا اور ڈرپوك آدمی تمہاری ترقی كو روك دے گا اور لالچی آدمی تمھیں دنيا كو خوبصورت بناكر پيش كرے گا۔ اور یہ تمام باتیں كسی شخص میں جمع نہ ہونگی مگر یہ كہ وہ سوء ظن كا شكار ہو گيا ہو۔
239677