ترجمان وزارت خارجہ كا انتباہ: صیہونی حكومت كی دھمكيوں كے مقابلے میں اقوام متحدہ سكوت اختيار نہ كرے

IQNA

ترجمان وزارت خارجہ كا انتباہ: صیہونی حكومت كی دھمكيوں كے مقابلے میں اقوام متحدہ سكوت اختيار نہ كرے

سياسی گروپ: غاصب اور متجاوز صیہونی حكومت جو ایٹمی ہتھيار بھی ركھتی ہے اس كی دھمكيوں كے مقابلے میں اقوام متحدہ كو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق وزارت خارجہ كے ترجمان جناب سيد محمد علی حسينی نے ہفتہ وار پريس كانفرنس میں نامہ نگاروں سے غاصب صیہونی حكومت كی جانب سے ايران كو دی جانے والی دھمكی اور اقوام متحدہ كی خاموشی كے بارے میں كہا كہ اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ايران كے دائمی نمائندےكی جانب سے ان دھمكيوں كے مقابلے میں ہم نے اپنے رد عمل كا اظہاركر ديا ہے اور یہ بھی مطالبہ كيا ہے كہ اسے اقوام متحدہ میں مكتوب شكل میں محفوظ كر ديا جائے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ اقوام متحدہ اورعالمی سلامتی كونسل كو ايسی حكومت جو غاصب متجاوز اور ایٹمی اسلحہ ركھنے والی ہو اس كی دھمكيوں كے مقابلے میں سكوت اختيار نہیں كرنا چاہیے۔ وزارت خارجہ كے ترجمان نے كہا ليكن افسوس ہے كہ اقوام متحدہ اور عالمی سلامتی كونسل ہميشہ اس غاصب حكومت كی طرفداری اور اس كے منافع كی حفاظت كرتے رھے ہیں۔
جناب حسينی نے صیہونی غاصب حكومت كی جانب سے ہونے والی فوجی مشقوں پر تبصرہ كرتے ہوئے كہا كہ دنيا كے بہت سے سياستدانوں اور خود غاصب حكومت كے بعض لوگوں كا كہنا ہے كہ یہ فوجی مشقیں كامياب نہیں تھیں۔ ترجمان وزارت خارجہ نے كہا كہ ان فوجی مشقوں سے فائدے كی بجائے اسرائيلی عوام میں خوف و ہراس بڑھ گيا ہے۔
239370