آية اللہ تسخيری: ايران اور پاكستان گزشتہ ۳۰ سالوں میں قرآنی معارف كی توسيع كے علمبردار رہے ہیں

IQNA

آية اللہ تسخيری: ايران اور پاكستان گزشتہ ۳۰ سالوں میں قرآنی معارف كی توسيع كے علمبردار رہے ہیں

سياسی گروپ: عالمی تقريب مذاھب اسلامی كونسل كے جنرل سكرٹری نے پاكستان میں علمائے شيعہ اور سنی سے ملاقات كرتے ہوئے كہا كہ گزشتہ ۳۰ سالوں میں ايران اور پاكستان قرآنی معارف كی توسيع كے علمبردار اور عالم اسلام كی مشكلات كو حل كرنے اور اتحاد بين المسلمين كے علمبردار رہے ہیں۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' نے عالمی تقريب مذاھب اسلامی كونسل كے تعلقات عامھ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ آية اللہ تسخيری عالمی تقريب مذاھب اسلامی كونسل كے جنرل سكرٹری نے پاكستان كے ممتاز شيعہ اور سنی علماء سے ملاقات كرتے ہوئے كہا كہ عالم اسلام كے لئے ايرانی اور پاكستانی اقوام دو اساسی ركن ہے۔ یہ دو حكومتیں ايك دوسرے كے تعاون سے عالم اسلام كی توقعات پوری كرسكتی ہیں۔عالمی تقريب مذاھب اسلامی كونسل كے جنرل سكرٹری نے مزيد كہا كہ عالم اسلام كے دشمن اپنے ناپاك مقاصد كے حصول كے لئے ايرانی اور پاكستانی عوام كو ايك دوسرے سے دور كرنا چاہتے ہیں۔ جناب آية اللہ تسخيری نے پاكستان میں حالیھ فرقہ وارانہ فساد كی مذمت كرتے ہوئے كہا كہ افسوس كی بات یھ ہےكھ سياسی لڑائی كو شيعہ اور سنی كے جھگڑے كا نام ديا جا رہا ہے جب كہ پوری دنيا میں شيعہ اور سنی كے مابين كوئی مشكل نہیں ہے۔ انھوں نے كہا كہ انقلاب اسلامی كی كاميابی كے بعد علاقے میں پھيلنے والی اسلامی لہروں كو نابود كرنے كے لئے صدام حسين كے ذريعے جنگ كا آغازكيا گيا ۔ تاكہ ايران اور پاكستان میں قرآن كی حكومت تشكيل نہ پاسكے ۔ ليكن الحمد للہ یہ دونوں ملك مسلمان اور آپس میں ايك دوسرے كے دوست اور عالم اسلام كے پرچم دار ہیں۔
239410