IQNA

سياسی گروپ: تھران كے امام جمعہ نے آيت كريمھ وما االنصر الامن عند اللہ العزيز الحكيم، كی تلاوت كرتے ہوئے كہا كہ اگر اسلامی تعليمات انسان كی زندگی میں داخل ہو جائیں تو انسان ہروسيلہ كو اپنی پناہ گاہ نہیں بنا سكتا۔
ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق تھران كے امام جمعہ آية اللہ جتنی نے نماز جمعہ كے پہلے خطبہ میں پيغمبر اسلام كی سيرت طيبہ اور شعب ابی طالب میں حضرت محمد ﴿ص﴾ اور انكے مدد گاروں كے محاصروں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ان سخت حالات میں پيغمبر اسلام كے سب سے بڑے حامی اور مددگار جناب ابوطالب ﴿ع﴾ تھے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ بعثت كے یہ تين سال پيغمبر ﴿ص﴾ كے لیے بھت زيادہ سخت اور مشكل تھے اور انھیں تيسرے سال كے آخر میں جناب جبرئيل ﴿ع﴾ نے پروردگار عالم كی جانب سے پيغمبر ﴿ص﴾ كو عھد نامہ كے نابود ہونے كی خبردی اور یہ بتايا كہ فقط عھد نامہ كا وہ حصّہ محفوظ ہے جس پر اللہ كا نام لكھا ہوا ہے۔ اور حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ نے یہ خبر جاكر مشركين كو سنائی۔ خطيب جمعہ نے كہا كہ بعض خبيث افراد نے اس خبر كو سحر و جادو قرار ديا اور بعض لوگوں نے كہاكہ یہ خبر پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ اور ان كے مددگاروں كو امن وامان دينے كا موقع فراہم كرے گی۔ یہ ماجرا اس بات ترجمانی كرتا ہےكہ دنيا كا ہر ذرہ خدا كے حكم كی اطاعت كرتا ہے اور وہ ديمك بھی خدا كامامورہے۔ جس نے اس عھدنامہ كو نابود كيا تھا۔ آية اللہ جتنی نے كہا كہ اصحاب فيل كے واقعہ میں بھی مشركين ہاتھيوں كو ليكر آئے ليكن خدا كی طرف سے مامور پرندوں نے ابرھا كے لشكر پر كنكرياں گرائیں۔ خطيب جمعہ نے كہا كہ ان اسلامی تعليمات كے ساتھ انسان اپنی زندگی كا آغاز كرے تو ہروسيلہ كو اپنی پناہ گاہ نہیں بنائے گا ہم اپنی اس ثقافت كے ساتھ دشمن كا مقابلہ كریں اور ہمارے فوجی جن پر ہمیں ناز ہے اس ثقافت كے ساتھ اپنی كار نامے انجام دیں۔
241298