IQNA

سياسی گروپ: علوم اسلامی اور علوم انسانی میں خلاقيت قرآنی تعليم كے احياء میں ميسر ہے۔

مجلس خبرگان اور تشخيص مصلحت نظام كونسل كے ممبر آيت اللہ محمد علی موحدی كرمانی نے ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا'' سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ رواں سال كو قائد انقلاب اسلامی نے خلاقيت اور پيشرفت كا سال قرار ديا ہے اور اسلامی معاشرے میں خلاقيت كی بہت زيادہ اہميت ہے۔ انھوں نے كہا كہ اسلام، خلاقيت كا سر چشمہ ہے اور قرآن مجيد خلاقيت كا متن ہے كيونكہ قرآن مجيد میں حقائق پوشيدہ ہیں اور انسان قرآن مجيد میں جس قدر غوروفكر كرے گا اس كے لیے یہ حقائق روشن ہوتے جائیں گے۔ انھوں نے وضاحت كی كہ یہ نظریہ غلط ہے كہ خلاقيت صرف فزكس اور علم كيميا میں ہے بلكہ علوم انسانی اور اسلامی میں خلاقيت بہت زيادہ ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ اسلامی اور قرآنی ثقافت میں خلاقيت اور پيشرفت كے راستے تلاش كرنے كی ضرورت ہے۔ جناب موحدی كرمانی نے كہا كہ ممكن ہےكہ قرآن مجيد میں ھزاورں دقيق مطالب موجود ہوں كہ جن تك بشريت اب تك رسائی حاصل نہ كر سكی ہو۔ قرآنی حقائق تك رسائی حاصل كرنے كے لیے ضروری ہے كہ قرآن مجيد كا دقت سے مطالعہ كياجائے۔ تشخيص مصلحت نظام كونسل كے ممبرنے كہا كہ خود قرآن مجيد كی تعبير كے مطابق قرآن ﴿علم﴾ كا ايك گہرا سمندر ہے جتنا اس كی تہہ میں جائیں گے اتنے ہی زيادہ قيمتی موتی ملیں گے۔ انھوں نے اپنی گفتگو كے آخر میں كہا كہ انسانی اور قرآنی علوم میں زيادہ سے زيادہ جدت ہونی چاہيئے اور یہ قرآنی علوم كے احياء كی مرھون منت ہے۔
241708