IQNA

سياسی گروپ: خدا كی الوھيت كا اقرار معصيت اور گناہ سے سازگار نہیں ہے انسان كو اپنے معشوق كے سامنے '' گناہ'' كی جسارت نہیں كرنا چاہیے اور گناہ ، حريم خدا اور قوانين الھی سے تجاوز كرنے كا نام ہے۔
ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق مجلس خبرگان كے ممبر اور تھران میں نماز جمعہ كے خطيب آيت اللہ امامی كاشانی نے گزشتہ روز تھران كی نمازجمعہ كے پہلے خطبے میں '' اسماء الحسنی'' كے معانی بيان كرتے ہوئے كہا كہ خدا كے اسماء كو" الحسنی '' اس لیے كہا جاتا ہے كيونكہ خدا كے تمام نام زيبا اور خوبصورت ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ قرآن مجيد میں اللہ تعالی كے ۹۹ اسماء ذكر ہوئے ہیں۔ ان میں سے پہلا اسم مقدس '' اللہ '' ہے اور اللہ يا الہ كے معانی پناہ گاہ اور معشوق كے ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ كلام اميرالمومنين میں خدا كو معشوق اور محبوب كہا گيا ہے۔ آيت اللہ امامی كاشانی نے كہا كہ ہمارا وجود اور ہماری سعادت و خوش بختی خدا كے وجود سے ہے اور اگر انسان خدا كو حقيقتا الہ مانتا ہے تو اس كو بلند مقام تك رسائی حاصل كرنا چاہیے۔ ابھوں نے مزيد كہا كہ اگر ہم زندگی میں ايك مرتبہ بھی خدا كو سجدہ كرلیں تو خدا كا تقرب حاصل ہوجائے گا اور اگر خدا سے عشق كی بجائے ہم دنيا سے عشق كرنے لگ جائیں تو پھر ہم خدا كا تقرب حاصل نہیں كر سكتے۔ تھران كے امام جمعہ نے كہا كہ خدا كو الہ ماننا معصيت اورگناہ سے سازگار نہیں ہے۔ اور انسان كو اپنے معشوق كے سامنے '' گناہ'' كی جسارت نہیں كرنا چاہیے كيونكہ گناہ حريم خدا اور قوانين الھی سے تجاوز كا نام ہے۔ انھوں نے كہا كہ معاشرے میں گناہ بہت زيادہ ہو چكے ہیں خواھشات نے معاشرے كی فضا كو زہر آلود كر ركھا ہے۔ اس لیے امر بہ معروف اور نھی عن المنكر كی بہت زيادہ ضرورت ہے۔ آيت اللہ امامی كاشانی نے اپنی گفتگو كے اختتام میں كہا كہ ہمیں خدا كے عشق كا جام نوش كرنا چاہیے۔ تا كہ جب ہم سجدے مين جاكر '' سبحان ربی الاعلی وبحمدہ'' كہیں تو ہمارا پورا وجود اس بات كی گواہی دے۔
۲۴۳۷۷۹