شوارئے نگہبان كے جنرل سيكرٹری آيت اللہ احمد جنتی نے ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا '' سے خصوصی گفتگو كرتے ہوئے ايران كے آئندہ ۲۰ سالہ پروگرام كی وضاحت كرتے ہوئے كہا كہ علمائے اسلام كی باہمی ملاقاتوں اور ايك دوسرے كے اسلامی ممالك میں علمی سفروں وغيرہ كے ذريعے اسلامی جمہوریہ ايران كے دوسرے آسمانی اديان اور اسلامی مذاہب سے تعلقات كو فروغ ملےگا ۔ آيت اللہ جنتی نے كہا كہ علماء كی اس آمد و رفت سے وہ جہان اسلام كی ضروريا ت كو سمجھیں گے اور عوام كی صحيح سمت كی طرف راہنمائی كریں گے اور اگر علماء خود جہان اسلام كے مسائل سے آگاہ ہوں ليكن عوام كو صحيح رہنمائی نہ كریں تو اس سے اسلام كے اعلی مقاصد تك رسائی ممكن نہیں ہو گی۔ انھوں نے مزيد كہاكہ ممكن ہے عام لوگ اختلاف كا شكار بھی ہوں ليكن علماء كی ذمہ داری ہے كہ وہ ہميشہ منادی وحدت رہیں۔ انھوں نے كہا كہ علماء اسلام كے منادی وحدت ہونے سے ہی ايران میں شيعہ و سنی كا مسئلہ حل ہو چكا ہے۔ اور اب یہ نورانی پيغام ايران كی سرحدوں سے باہر بھی اپنی كرنیں بكھير رہا ہے اور دنيا كے عوام كو وحدت و ہمدلی كی دعوت ديتا ہے۔
252720