ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا '' كی رپورٹ كے مطابق آٹھویں پارليمنٹ كے عبوری اسپيكرعلی لاريجانی نے پارليمنٹ كے اجلاس میں سب سے پہلے امام خمينی ﴿رح﴾ كی برسی كے حوالے سے انھیں خراج عقيدت پيش كرتے ہوئے كہا كہ امام خمينی ﴿رح﴾ نے عصر حاضر میں اسلامی تفكر كو ايك نئی راہ و روش عطا كی ہے جس كے باعث آج ہم ايران اور پوری دنيا میں انقلابی بيداری كو محسوس كرتے ہیں۔ لاريجانی نے كہا كہ ايران كا ایٹمی پروگرام بين الاقوامی قواعد و ضوابط كے تحت مصروف عمل ہے اور اس میں كسی قسم كا انحراف نہیں پايا جاتا ۔ انھوں نے كہا كہ آٹھویں پارليمنٹ بھی ایٹمی پروگرام كے حوالے سے ٹھوس موقف كو آ گے برھائے گی اور اس سلسلے میں كسی قسم كی فريب كاری كا شكار نہیں ہو گی۔ انھوں نے سابقہ سپيكر غلام علی حداد عادل كی زحمتوں كا شكریہ ادا كيا اور كہا كہ وہ ہميشہ ايك قومی سرمایہ كے طور پر پارليمنٹ كا حصہ رہیں گے۔ انھوں نے قائد انقلاب كے بيان پر تبصرہ كرتے ہوئے كہا كہ قائد انقلاب اسلامی نے اپنے پيغام میں اسمبلی كا راستہ متعين كر ديا ہے جس میں انھوں نے دو بنيادی نكات كی طرف اشارہ كيا ہے جس میں ايك مجلس كا قومی امور پر نظارت كا عنصر ہے اور دوسرا عدلیہ اور قوہ مجریہ سے ہم آہنگی شامل ہے۔
جناب لاريجانی نے كہا كہ پارليمنٹ میں قانون سازی كا عمل حكومت كے لیے اچھی رہنمائی فراہم كرے گا اور حكومت پارليمنٹ كے منصوبوں كو عملی جامہ پہنا نے كی پابند ہوگی اور ان دو میں اختلاف كی صورت میں طرفين كے نمائندے باہمی گفتگو كے ذريعے مسائل كو حل و فصل كر یں گے۔
256051