حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كے بغير اسلام كی تاريخ نامكمل ہے

IQNA

حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كے بغير اسلام كی تاريخ نامكمل ہے

سياسی و سماجی گروپ: آيت اللہ صافی گلپائيگانی نے كہا كہ حضرت ابوطالب﴿ع﴾ كی شخصيت كو فراموش كردينا تاريخ اسلام كے ايك باب كو فراموش كر دينے كے مترادف ہے اور حضرت ابوطالب﴿ع﴾ كے بغير اسلام كی تاريخ ادھوری رہ جاتی ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' شعبہ قم نے حوزہ نيوزسنٹر كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ آيت اللہ صافی گلپائيگانی نے يكم جولائی ۲۰۰۸ء كو حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كی ياد منانے كےحوالے سے تشكيل دی گئی كمیٹی كے اراكين سے ملاقات میں كہا كہ اگر مسلمان حق شناس ہوں تو انھیں چاہیے كہ حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كی ياد منا كر ان كا حق ادا كریں۔ انھوں نے كہا حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كا نام زندہ رہنا چاہیے اور اگر مسلمان حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كی شخصيت كو فراموش كر دیں تو یہ تاريخ اسلام كے ايك باب كو فراموش كردينے كے مترادف ہو گا۔ تاريخ اسلام حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كے بغير مكمل نہیں ہوتی۔ انھوں نے مزيد كہا كہ جس طرح شيعوں كا حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كے بارے میں عقيدہ ہے وہ عقيدہ اہل سنت كا حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كے بارے میں نہیں ہے۔ اور اس كی وجہ حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كی شخصيت سے عدم آگاہی ہے۔ آيت اللہ صافی گلپائيگانی نے كہا كہ ہم شيعوں نےبھی حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كی شخصيت كو نہیں پہچانا۔ حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ ادبی اور علمی شخصيت كے مالك تھے اور ان كے خوبصورت اشعار اب بھی موجود ہیں۔ انھوں نے كہا حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ نے پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ اور اسلام كی زبردست حمايت كی اور اگر حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ نہ ہوتے تو آج اسلام اور قرآن كا بھی وجود نہ ہوتا۔ آيت اللہ صافی گلپائيگانی نے اپنی گفتگو كے آخر میں اس كمیٹی كےاراكين كو تاكيد كی كہ وہ حضرت ابوطالب ﴿ع﴾ كی شخصيت كےتعارف كے لیے زيادہ سے زيادہ اہتمام كریں كيونكہ یہ كام، احياء دين ہے۔
267511