علامہ مجلسی تحريرفرماتے ہیں كہ جب جناب شہربانوايران سے مدينہ كے لیے روانہ ہورہی تھیں توجناب رسالت مآب نے عالم خواب میں ان كاعقدحضرت امام حسين علیہ السلام كے ساتھ پڑھ دياتھا (جلاء العيون ص ۲۵۶) ۔ اورجب آپ واردمدينہ ہوئیں توحضرت علی علیہ السلام نے امام حسين علیہ السلام كے سپردكركے فرماياكہ یہ وہ عصمت پروربی بی ہے كہ جس كے بطن سے تمہارے بعدافضل اوصياء اورافضل كائنات ہونے والابچہ پيداہوگا چنانچہ حضرت امام زين العابدين متولدہوئے ليكن افسوس یہ ہے كہ آپ اپنی ماں كی آغوش میں پرورش پانے كالطف اٹھانہ سكے ”ماتت فی نفاسہابہ“ آپ كے پيداہوتے ہی ”مدت نفاس“ میں جناب شہربانوكی وفات ہوگئی (قمقام جلاء العيون)۔عيون اخباررضا دمعة ساكبة جلد ۱ ص ۴۲۶) ۔
كامل مبردمیں ہے كہ جناب شہربانو،بادشاہ ايران يزدجردبن شہرياربن شيرویہ ابن پرويزبن ہرمزبن نوشيرواں عادل ”كسری“ كی بیٹی تھیں (ارشادمفيدص ۳۹۱ ،فصل الخطاب) علامہ طريحی تحريرفرماتے ہیں كہ حضرت علی نے شہربانوسے پوچھاكہ تمہارانام كياہے توانہوں نے كہا”شاہ جہاں“ حضرت نے فرمايانہیں اب ”شہربانوہے (مجمع البحرين ص ۵۷۰)
نام،كنيت ،القاب
آپ كااسم گرامی ”علی“ كنيت ابومحمد۔ ابوالحسن اورابوالقاسم تھی، آپ كے القاب بےشمارتھے جن میں زين العابدين ،سيدالساجدين، ذوالثفنات، اورسجادوعابد زيادہ مشہورہیں (مطالب السؤل ص ۲۶۱ ،شواہدالنبوت ص ۱۷۶ ،نورالابصار ص ۱۲۶ ،الفرع النامی نواب صديق حسن ص ۱۵۸) ۔
لقب زين العابدين كی توجیہ
علامہ شبلنجی كابيان ہے كہ امام مالك كاكہناہے كہ آپ كوزين العابدين كثرت عبادت كی وجہ سے كہاجاتاہے (نورالابصار ص ۱۲۶) ۔
علماء فريقين كاارشادہے كہ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام ايك شب نمازتہجد میں مشغول تھے كہ شيطان اژدھے كی شكل میں آپ كے قريب آگيا اوراس نے آپ كے پائے مبارك كے انگوٹھے كومنہ میں لے كاٹناشروع كيا، امام جوہمہ تن مشغول عبادت تھے اورآپ كارجحان كامل بارگاہ ايزدی كی طرف تھا، وہ ذرابھی اس كے اس عمل سے متاثرنہ ہوئے اوربدستورنمازمیں منہمك ومصروف ومشغول رہے بالآخروہ عاجزآگيا اورامام نے اپنی نمازبھی تمام كرلی اس كے بعدآپ نے اس شيطان ملعون كوطمانچہ ماركردورہٹاديا اس وقت ہاتف غيبی نے انت زين العابدين كی تين بارصدادی اوركہابے شك تم عبادت گزاروں كی زينت ہو، اسی وقت آپ كایہ لقب ہوگيا(مطالب السؤل ص ۲۶۲ ،شواہدالنبوت ص ۱۷۷) ۔
علامہ ابن شہرآشوب لكھتے ہیں كہ اژدھے كے دس سرتھے اوراس كے دانت بہت تيزاوراس كی آنكھیں سرخ تھیں اوروہ مصلی كے قريب سے زمين پھاڑكے نكلاتھا (مناقب جلد ۴ ص ۱۰۸) ايك روايت میں اس كی وجہ یہ بھی بيان كی گئی ہے كہ قيامت میں آپ كواسی نام سے پكاراجائے گا (دمعة ساكبة ص ۴۲۶) ۔
لقب سجادكی توجیہ
ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمدباقرعلیہ السلام لكھاہے كہ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كوسجاد اس لیے كہاجاتاہے كہ آپ تقريبا ہركارخيرپرسجدہ فرماياكرتے تھے جب آپ خداكی كسی نعمت كاذكركرتے توسجدہ كرتے جب كلام خداكی آيت ”سجدہ“ پڑھتے توسجدہ كرتے جب دوشخصوں میں صلح كراتے توسجدہ كرتے اسی كانتيجہ تھاكہ آپ كے مواضع سجودپراونٹ كے گھٹوں كی گھٹے پڑجاتے تھے پھرانہیں كٹواناپڑتاتھا۔
امام زين العابدين علیہ السلام كی نسبی بلندی
نسب اورنسل باپ اورماں كی طرف سے ديكھے جاتے ہیں، امام علیہ السلام كے والدماجد حضرت امام حسين اورداداحضرت علی اوردادی حضرت فاطمہ زہرا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اورآپ كی والدہ جناب شہربانوبنت يزدجردابن شہريارابن كسری ہیں ،يعنی آپ حضرت پيغمبراسلام علیہ السلام كے پوتے اورنوشيرواں عادل كے نواسے ہیں ،یہ وہ بادشاہ ہے جس كے عہدمیں پيداہونے پرسروركائنات نے اظہارمسرت فرماياہے ،اس سلسلہ نسب كے متعلق ابوالاسود دوئلی نے اپنے اشعارمیں اس كی وضاحت كی ہے كہ اس سے بہتر اورسلسلہ ناممكن ہے اس كاايك شعریہ ہے۔
وان غلاما بين كسری وہاشم
لاكرم من ينطت علیہ التمائم
اس فرزندسے بلندنسب كوئی اورنہیں ہوسكتا جونوشيرواں عادل اورفخركائنات حضرت محمدمصطفی كے داداہاشم كی نسل سے ہو(اصول كافی ص ۲۵۵) ۔
شيخ سليمان قندوزی اورديگرعلماء اہل اسلام لكھتے ہیں كہ نوشيرواں كے عدل كی بركت توديكھوكہ اسی كی نسل كوآل محمدكے نوركی حامل قرارديا اورآئمہ طاہرين كی ايك عظيم فردكواس لڑكی سے پيداكيا جونوشيرواں كی طرف منسوب ہے ،پھرتحريركرتے ہیں كہ امام حسين كی تمام بيويوں میں یہ شرف صرف جناب شہربانوكونصيب ہوجوحضرت امام زين العابدين كی والدہ ماجدہ ہیں (ينابيع المودة ص ۳۱۵ ،وفصل الخطاب ص ۲۶۱) ۔
علامہ عبيداللہ بحوالہ ابن خلكان لكھتے ہیں كہ جناب شہربانوشاہان فارس كے آخری بادشاہ يزدجردكی بیٹی تھیں اورآپ ہی سے امام زين العابدين متولدہوئے ہیں جن كو”ابن الخيرتين“ كہاجاتاہے كيونكہ حضرت محمدمصطفی فرماياكرتے تھے كہ خداوندعالم نے اپنے بندوں میں سے دوگروہ عرب اورعجم كوبہترين قراردياہے اورمیں نے عرب سے قريش اورعجم سے فارس كومنتخب كرلياہے ،چونكہ عرب اورعجم كااجتماع امام زين العابدين میں ہے اسی لیے آپ كو”ابن الخيرتين“ سے يادكياجاتاہے (ارجح المطالب ص ۴۳۴) ۔ علاہ ابن شہرآشوب لكھتے ہیں كہ جناب شہربانوكو ”سيدةالنساء “ كہاجاتاہے (مناقب جلد ۴ ص ۱۳۱) ۔
امام زين العابدين كے بچپن كاايك واقعہ
علامہ مجلسی رقمطرازہیں كہ ايك دن امام زين العابدين جب كہ آپ كابچپن تھا بيمارہوئے حضرت امام حسين علیہ السلام نے فرمايا”بیٹا“ اب تمہاری طبيعت كيسی ہے اورتم كوئی چيزچاہتے ہوتوبيان كروتاكہ میں تمہاری خواہش كے مطابق اسے فراہم كرنے كی سعی كروں آپ نے عرض كيا باباجان اب خداكے فضل سے اچھاہوں ميری خواہش صرف یہ ہے كہ خداوندعالم ميراشماران لوگوں میں كرے جوپروردگارعالم كے قضاوقدركے خلاف كوئی خواہش نہیں ركھتے ،یہ سن كرامام حسين علیہ السلام خوس ومسرورہوگئے اورفرمانے لگے بیٹا،تم نے بڑامسرت افزا اورمعرفت خيزجواب دياہے تمہاراجواب بالكل حضرت ابراہيم كے جواب سے ملتاجلتاہے ،حضرت ابراہيم كوجب منجيق میں ركھ كر آگی طرف پھينكا گياتھا اورآپ فضامیں ہوتے ہوئے آگ كی طرف جارہے تھے توحضرت جبرئيل نے آپ سے پوچھا”ہل لك حاجة“ آپ كی كوئی حاجت وخواہش ہے اس وقت انہوں نے جواب دياتھا ”نعم امااليك فلا“ بےشك مجھے حاجت ہے ليكن تم سے نہیں اپنے پالنے والے سے ہے (بحارالانوار جلد ۱۱ ص ۲۱ طبع ايران)۔
آپ كے عہدحيات كے بادشاہان وقت
آپ كی ولادت بادشاہ دين وايمان حضرت علی علیہ السلام كے عہدعصمت مہدمیں ہوئی پھرامام حسن علیہ السلام كازمانہ رہاپھربنی امیہ كی خالص دنياوی حكومت ہوگئی، صلح امام حسن كے بعدسے ۶۰ ھ تك معاویہ بن ابی سفيان بادشاہ رہا، اس كے بعداس كافاسق وفاجربیٹا يزيد ۶۴ ھ تك حكمران رہا ۶۴ ھ میں معاویہ بن يزيدابن معاویہ اورمروان بن حكم حاكم رہے ۶۵ ھ سے ۸۶ ھ تك عبدالملك بن مروان حاكم اوربادشاہ رہا پھر ۸۶ ھ سے ۹۶ ھ تك وليدبن عبدالملك نے حكمرانی كی اوراسی نے ۹۵ ھء میں حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كوزہردغاسے شہيدكرديا (تاريخ آئمہ ۳۹۲ ،وصواعق محرقہ ص ۱۲ ،نورالابصار ص ۱۲۸) ۔
امام زين العابدين كاعہدطفوليت اورحج بيت اللہ
علامہ مجلسی تحريرفرماتے ہیں كہ ابراہيم بن اوہم كابيان ہے كہ میں ايك مرتبہ حج كے لیے جاتاہواقضائے حاجت كی خاطرقافلہ سے پيچھے رہ گياابھی تھوڑی ہی ديرگزری تھی كہ میں نے ايك نوعمرلڑكے كواس جنگل میں سفرپيماديكھا اسے ديكھ كرپھرايسی حالت میں كہ وہ پيدل چل رہاتھا اوراس كے ساتھ كوئی سامان نہ تھا اورنہ اس كاكوئی ساتھی تھا،میں حيران ہوگيافورا اس كی خدمت میں حاضرہوكرعرض پردازہوا ”صاحبزادے“ یہ لق ودق صحرا اورتم بالكل تنہا، یہ معاملہ كياہے، ذرا مجھے بتاؤتوسہی كہ تمہارازادراہ اورتمہاراراحلہ كہاں ہے اورتم كہاں جارہے ہو؟ اس نوخيزنے جواب ديا ”زادی تقوی وراحلتی رجلاء وقصدی مولای“ ميرا زادراہ تقوی اورپرہيزگاری ہے اورميری سواری ميرے دونوں پيرہیں اورميرامقصد ميراپالنے والاہے اورمیں حج كے لے جارہاہوں ،میں نے كہاكہ آپ توبالكل كمسن ہیں حج توابھی آپ پرواجب نہیں ہے اس نوخيزنے جواب ديابے شك تمہاراكہنادرست ہے ليكن اے شيخ میں ديكھاكرتاہوں كہ مجھ سے چھوٹے بچے بھی مرجاتے ہیں اس لیے حج كوضروری سمجھتاہوں كہ كہیں ايسانہ ہوكہ اس فريضہ كی ادائيگی سے پہلے مرجاؤں میں نے پوچھااے صاحبزادے تم نے كھانے كاكياانتظام كياہے ،میں ديكھ رہاہوں كہ تمہارے ساتھ كھانے كابھی كوئی معقول انتظام نہیں ہے، اس نے جواب ديااے شيخ كياجب تم نے كسی كے یہاں مہمان جاتے ہوتوكھانااپنے ہمراہ لے جاتے ہو؟ میں نے كہانہیں پھراس نے فرمايا سنومیں توخداكامہمان ہوكرجارہاہوں كھانے كاانتظام اس كے ذمہ ہے میں نے كہااتنے لمبے سفركوپيدل كيوں كرطے كروگے اس نے جواب دياكہ ميراكام كوشش كرناہے اورخداكاكام منزل مقصودپہنچاناہے ۔
ہم ابھی باہمی گفتگوہی میں مصروف تھے كہ ناگاہ ايك خوبصورت جوان سفيدلباس پہنے ہوئے آپہنچا اوراس نے اس نوخيزكوگلے سے لگاليا،یہ ديكھ كر میں نے اس جوان رعناسے دريافت كياكہ یہ نوعمرفرزندكون ہے؟ اس نوجوان نے كہاكہ یہ حضرت امام زين العابدين بن امام حسين بن علی بن ابی طالب ہیں، یہ سن كر میں اس جوان رعناكے پاس سے امام كی خدمت میں حاضرہوا اورمعذرت خواہی كے بعدان سے پوچھاكہ یہ خوبصورت جوان جنہوں نے آپ كوگلے سے لگايا یہ كون ہیں؟ انہوں نے فرماياكہ یہ حضرت خضرنبی ہیں ان كافرض ہے كہ روزانہ ہماری زيارت كے لیے آياكریں اس كے بعدمیں نے پھرسوال كيااوركہا كہ آخرآپ اس طويل اورعظيم سفركوبلازاداورراحلہ كيونكہ طے كریں گے توآپ نے فرماياكہ میں زادارراحلہ سب كچھ ركھتاہوں اوروہ یہ چارچيزیں ہیں :
۱ ۔ دنيااپنی تمام موجودات سميت خداكی مملكت ہے۔
۲ ۔ ساری مخلوق اللہ كے بندے اورغلام ہیں۔ ۳ ۔ اسباب اورارزاق خداكے ہاتھ میں ہے_
۴ ۔ قضائے خداہرزمين میں نافذہے ۔
یہ سن كرمیں نے كہاخداكی قسم آپ ہی كازادوراحلہ صحيح طورپرمقدس ہستيوں كاسامان سفر ہے (دمعہ ساكبہ جلد ۳ ص ۴۳۷) علماء كابيان ہے كہ آپ نے ساری عمرمیں ۲۵ حج پاپيادہ كئے ہیں آپ نے سواری پرجب بھی سفركياہے اپنے جانوركوايك كوڑابھی نہیں مارا
آپ كاحلیہ مبارك
امام شبلنجی لكھتے ہیں كہ آپ كارنگ گندم گوں (سانولا) اورقدميانہ تھا آپ نحيف اورلاغرقسم كے انسان تھے (نورالابصار ص ۱۲۶ ، اخبارالاول ص ۱۰۹) ۔
ملامبين تحريرفرماتے ہیں كہ آپ حسن وجمال ،صورت وكمال میں نہايت ہی ممتازتھے، آپ كے چہرہ مبارك پرجب كسی كی نظرپڑتی تھی تووہ آپ كااحترام كرنے اورآپ كی تعظيم كرنے پرمجبورہوجاتاتھا(وسيلة النجات ص ۲۱۹) محمدبن طلحہ شافعی رقمطرازہیں كہ آپ صاف كپڑے پہنتے تھے اورجب راستہ چلتے تھے تونہايت خشوع كے ساتھ راہ روی میں آپ كے ہاتھ زانوسے باہرنہیں جاتے تھے (مطالب السؤل ص ۲۲۶،۲۶۴) ۔
حضرت امام زين العابدين كی شان عبادت
جس طرح آپ كی عبادت گزاری میں پيروی ناممكن ہے اسی طرح آپ كی شان عبادت كی رقم طرازی بھی دشوارہے ايك وہ ہستی جس كامطمع نظرمعبودكی عبادت اورخالق كی معرفت میں استغراق كامل ہواورجواپنی حيات كامقصداطاعت خداوندی ہی كوسمجھتاہواورعلم ومعرفت میں حددرجہ كمال ركھتاہو اس كی شان عبادت كی سطح قرطاس پركيونكر لاياجاسكتاہے اورزبان قلم میں كس طرح كاميابی حاصل كرسكتی ہے یہی وجہ ہے كہ علماء كی بے انتہاكاہش وكاوش كے باوجود آپ كی شان عبادت كامظاہرہ نہیں ہوسكا ”قدبلغ من العبادة مالم يبلغہ احد“ آپ عبادت كی اس منزل پرفائزتھے جس پركوئی بھی فائزنہیں ہوا (دمعہ ساكبہ ص ۴۳۹) ۔
اس سلسلہ میں ارباب علم اورصاحبان قلم جوكچھ كہہ اورلكھ سكے ہیں ان میں سے بعض واقعات وحالات یہ ہیں :
آپ كی حالت وضو كے وقت
وضونمازكے لیے مقدمہ كی حيثيت ركھتاہے ،اوراسی پرنمازكادارومدارہوتاہے ، امام زين العابدين علیہ السلام جس وقت مقدمہ نمازيعنی وضوكا ارادہ فرماتے تھے آپ كے رگ وپے میں خوف خداكے اثرات نماياں ہوجاتے تھے ،علامہ محمدبن طلحہ شافعی لكھتے ہیں كہ جب آپ وضوكا قصد فرماتے تھے اوروضوكے لیے بیٹھتے تھے توآپ كے چہرہ مبارك كارنگ زردہوجاياكرتاتھا یہ حالت باربارديكھنے كے بعدان كے گھروالوں نے پوچھا كہ بوقت وضوآپ كے چہرہ كارنگ زردكيوں پڑجاياكرتاہے توآپ نے فرماياكہ اس وقت ميراتصوركامل اپنے خالق ومعبودكی طرف ہوتاہے اس لیے اس كی جلالت كے رعب سے ميرایہ حال ہوجاياكرتاہے (مطالب السؤل ص ۲۶۲) ۔
عالم نمازمیں آپ كی حالت
علامہ طبرسی لكھتے ہیں كہ آپ كوعبادت گزاری میں امتياز كامل حاصل تھا رات بھرجاگنے كی وجہ سے آپ كاسارابدن زردرہاكرتاتھا اورخوف خدامیں روتے روتے آپ كی آنكھیں پھول جاياكرتی تھیں اورنمازمیں كھڑكھڑے آپ كے پاؤں سوج جاياكرتے تھے (اعلام الوری ص ۱۵۳) اورپيشانی پرگھٹے رہاكرتے تھے اورآپ كی ناك كاسرازخمی رہاكرتاتھا (دمعہ ساكبہ ص ۴۳۹) علامہ محمدبن طلحہ شافعی لكھتے ہیں كہ جب آپ نمازكے لے مصلی پركھڑے ہواكرتے تھے تولرزہ براندام ہوجاياكرتے تھے لوگوں نے بدن میں كپكپی اورجسم میںتھرتھری كاسبب پوچھاتوارشادفرمايا كہ میں اس وقت خداكی بارگاہ میں ہوتاہوں اوراس كی جلالت مجھے ازخود رفتہ كرديتی ہے اورمجھ پرايسی حالت طاری كرديتی ہے (مطالب السؤل ص ۲۲۶) ۔ ايك مرتبہ آپ كے گھرمیں آگ لگ گئی اورآپ نمازمیں مشغول تھے اہل محلہ اورگھروالوں نے بے حدشورمچايا اورحضرت كوپكارا حضورآگ لگی ہوئی ہے مگر آپ نے سرنيازسجدئہ بے نيازسے نہ اٹھايا، آگ بجھادی گئی اختتام نمازپرلوگوں نے آپ سے پوچھاكہ حضورآگ كامعاملہ تھا ہم نے اتناشورمچايا ليكن آپ نے كوئی توجہ نہ فرمائی۔
آپ نے ارشادفرمايا ”ہاں“ مگرجہنم كی آگ كے ڈرسے نمازتوڑكراس آگ كی طرف متوجہ نہ ہوسكا (شواہدالنبوت ص ۱۷۷) ۔
علامہ شيخ صبان مالكی لكھتے ہیں كہ جب آپ وضوكے لیے بیٹھتے تھے تب ہی سے كانپنے لگتے تھے اورجب تيزہواچلتی تھی توآپ خوف خداسے لاغرہوجانے كی وجہ سے گركربے ہوش ہوجاياكرتے تھے (اسعاف الراغبين برحاشیہ نورالابصار ۲۰۰) ۔
ابن طلحہ شافعی لكھتے ہیں كہ حضرت زين العابدين علیہ السلام نمازشب سفروحضردونوں میں پڑھاكرتے تھے اوركبھی اسے قضانہیں ہونے ديتے تھے (مطالب السؤل ص ۲۶۳) ۔
علامہ محمدباقربحوالہ بحارالانوارتحريرفرماتے ہیں كہ امام علیہ السلام ايك دن نمازمیں مصروف ومشغول تھے كہ امام محمدباقرعلیہ السلام كنوئیں میں گرپڑے بچہ كے گہرے كنویں میں گرنے سے ان كی ماں بے چين ہوكر رونے لگیں اوركنویں كے گردپیٹ پیٹ كرچكرلگانے لگیں اوركہنے لگیں ،ابن رسول اللہ محمدباقرغرق ہوگئے امام زين العابدين نے بچے كے كنویں میں گرنے كی كوئی پرواہ نہ كی اوراطمينان سے نمازتمام فرمائی اس كے بعدآپ كنویں كے قريب آئے اوراگرپانی كی طرف ديكھا پھرہاتھ بڑھاكر بلارسی كے گہرے كنوئیں سے بچے كوونكال ليا بچہ ہنستاہوابرآمدہوا، قدرت خداوندی ديكھیے اس وقت بہ بچے كے كپڑے بھيگے تھے اورنہ بدن ترتھا(دمعہ ساكبہ ص ۴۳۰ ،مناقب جلد ۴ ص ۱۰۹) ۔
امام شبلنجی تحريرفرماتے ہیں كہ طاؤس راوی كابيان ہے كہ میں نے ايك شب حجراسودكے قريب جاكرديكھاكہ امام زين العابدين بارگاہ خالق میں سجدہ ريزی كر رہے ہیں ،میں اسی جگہ كھڑاہوگيا میں نے ديكھاكہ آپ نے ايك سجدہ كوبے حدطول ديدياہے یہ ديكھ كر میں نے كان لگايا توسنا كہ آپ سجدہ میں فرماتے ہیں ”عبدك بفنائك مسكينك بفنائك سائلك بفنائك فقيرك بفنائك “ یہ سن كرمیں نے بھی انہیں كلمات كے ذريعہ سے دعامانگی فوراقبول ہوئی (نورالابصار ص ۱۲۶ طبع مصر،ارشادمفيدص ۲۹۶) ۔
امام زين العابدين كی شبانہ روزايك ہزارركعتیں
علماء كابيان ہے كہ آپ شب وروزمیں ايك ہزارركعتیں ادافرماياكرتے تھے (صواعق محرقہ ص ۱۱۹ ،مطالب السؤل ۲۶۷) ۔
چونكہ آپ كے سجدوں كاكوئی شمارنہ تھا اسی لیے آپ كے اعضائے سجود”ثغنہ بعير“ كے گھٹے كی طرح ہوجاياكرتے تھے اورسال میں كئی مرتبہ كاٹے جاتے تھے (الفرع النامی ص ۱۵۸ ،دمعہ ساكبہ كشف الغمہ ص ۹۰) ۔
علامہ مجلسی لكھتے ہیں كہ آپ كے مقامات سجودكے گھٹے سال میں دوباركاٹے جاتے تھے اورہرمرتبہ پانچ تہ نكلتی تھی (بحارالانوارجلد ۲ ص ۳) علامہ دميری مورخ ابن عساكركے حوالہ سے لكھتے ہیں كہ دمشق میں حضرت امام زين العابدين كے نام سے موسوم ايك مسجدہے جسے”جامع دمشق“كہتے ہیں (حيواة الحيوان جلد ۱ ص ۱۲۱) ۔
امام زين العابدين علیہ السلام منصب امامت پرفائزہونے سے پہلے
اگرچہ ہماراعقيدہ ہے كہ امام بطن مادرسے امامت كی تمام صلاحيتيوں سے بھرپوراآتاہے تاہم فرائض كی ادائيگی كی ذمہ داری اسی وقت ہوتی ہے جب وہ امام زمانہ كی حيثيت سے كام شروع كرے يعنی ايساوقت آجائے جب كائنات ارضی پركوئی بھی اس سے افضل واعلم برترواكمل نہ ہو، امام زين العابدين اگرچہ وقت ولادت ہی سے امام تھے ليكن فرائض كی ادائيگی كی ذمہ داری آپ پراس وقت عائد ہوئی جب آپ كے والدماجد حضرت امام حسين علیہ السلام درجہ شہادت پرفائزہوكرحيات ظاہری سے محروم ہوگئے۔
امام زين العابدين علیہ السلام كی ولادت ۳۸ ھء میں ہوئی جبكہ حضرت علی علیہ السلام امام زمانہ تھے دوسال ان كی ظاہری زندگی میں آپ نے حالت طفوليت میں ايام حيات گزارے پھر ۵۰ ھء تك امام حسين علیہ السلام كازمانہ رہاپھرعاشورا، ۶ ۱ ھ تك امام حسين علیہ السلام فرائض امامت كی انجام دہی فرماتے رہے عاشوركی دوپہركے بعدسے ساری ذمہ داری آپ پرعائدہوگئی اس عظيم ذمہ داری سے قبل كے واقعات كاپتہ صراحت كے ساتھ نہیں ملتا،البتہ آپ كی عبادت گزاری اورآپ كے اخلاقی كارنامے بعض كتابوں میں ملتے ہیں بہرصورت حضرت علی علیہ السلام كے آخری ايام حيات كے واقعات اورامام حسن علیہ السلام كے حالات سے متاثرہوناايك لازمی امرہے پھرامام حسين علیہ السلام كے ساتھ تو ۲۳ ۔ ۲۲ سال گزارے تھے يقينا امام حسين علیہ السلام كے جملہ معاملات میں آپ نے بڑے بیٹے كی حيثيت سے ساتھ دياہی ہوگا ليكن مقصدحسين كے فروغ دينے میں آپ نے اپنے عہدامامت كے آغازہونے پرانتہائی كمال كرديا۔
واقعہ كربلاكے سلسلہ میں امام زين العابدين كاشانداركردار
۲۸/ رجب ۶۰ ھ كوآپ حضرت امام حسين كے ہمراہ مدينہ سے روانہ ہوكرمكہ معظمہ پہنچے چارماہ قيام كے بعدوہاں سے روانہ ہوكر ۲/ محرم الحرام كوواردكربلاہوئے، وہاں پہنچتے ہی ياپہنچنے سے پہلے آپ عليل ہوگئے اورآپ كی علالت نے اتنی شدت اختياركی كہ آپ امام حسين علیہ السلام كی شہادت كے وقت تك اس قابل نہ ہوسكے كہ ميدان میں جاكردرجہ شہادت حاصل كرتے، تاہم فراہم موقع پرآپ نے جذبات نصرت كوبروئے كارلانے كی سعی كی جب كوئی آوازاستغاثہ كان كان میں آئی آپ اٹھ بیٹھے اورميدان كارزارمیں شدت مرض كے باوجودجاپہنچنے كی سعی بليغ كی، امام كے استغاثہ پرتوآپ خيمہ سے بھی نكل آئے اورايك چوب خيمہ لے كر ميدان كاعزم كرديا،ناگاہ امام حسين كی نظرآپ پرپڑگئی اورانہوں نے جنگاہ سے بقولے حضرت زينب كوآوازدی ”بہن سيدسجادكوروكو ورنہ نسل رسول كاخاتمہ ہوجائے گا“ حكم امام سے زينب نے سيدسجادكوميدان میں جانے سے روك ليایہی وجہ ہے كہ سيدوں كاوجودنظر آرہاہے اگرامام زين العابدين عليل ہوكر شہيدہونے سے نہ بچ جاتے تونسل رسول صرف امام محمدباقرمیں محدودرہ جاتی ،امام شبلنجی لكھتے ہیں كہ مرض اورعلالت كی وجہ سے آب درجہ شہادت پرفائزنہ ہوسكے (نورالابصار ص ۱۲۶) ۔
شہادت امام حسين كے بعدجب خيموں میں آگ لگائی گئی توآپ انہیں خيموں میں سے ايك خيمہ میںبدستورپڑے ہوئے تھے ،ہماری ہزارجانیں قربان ہوجائیں،حضرت زينب پركہ انہوں نے اہم فرائض كی ادائيگی كے سلسلہ میں سب سے پہلافريضہ امام زين العابدين علیہ السلام كے تحفظ كاادافرمايا اورامام كوبچالياالغرض رات گزاری اورصبح نمودارہوئی، دشمنوں نے امام زين العابدين كواس طرح جھنجوڑا كہ آپ اپنی بيماری بھول گیے آپ سے كہاگياكہ ناقوں پرسب كوسواركرواورابن زيادكے دربارمیں چلو،سب كوسواركرنے كے بعدآل محمد كاساربان پھوپھيوں ،بہنوں اورتمام مخدرات كولئے ہوئے داخل دربار ہوا حالت یہ تھی كہ عورتیں اوربچے رسيوں میں بندھے ہوئے اورامام لوہے میں جكڑے ہوئے دربارمیں پہنچ گئے آپ چونكہ ناقہ كی برہنہ پشت پرسنبھل نہ سكتے تھے اس لیے آپ كے پيروں كوناقہ كی پشت سے باندھ دياگياتھا درباركوفہ میں داخل ہونے كے بعدآپ اورمخدرات عصمت قيدخانہ میں بندكردئیے گئے ،سات روزكے بعدآپ سب كولیے ہوئے شام كی طرف روانہ ہوئے اور ۱۹ منزلیں طے كركے تقريبا ۳۶/ يوم میں وہاں پہنچے كامل بھائی میں ہے كہ ۱۶/ ربيع الاول ۶۱ ھء كوبدھ كے دن آپ دمشق پہنچے ہیں اللہ رے صبرامام زين العابدين بہنوں اورپھوپھيوں كاساتھ اورلب شكوہ پرسكوت كی مہر ۔
حدودشام كاايك واقعہ یہ ہے كہ آپ كے ہاتھوں میں ہتھكڑی، پيروں میں بیڑی اورگلے میں خاردارطوق آہنی پڑاہواتھا اس پرمستزادیہ كولوگ آپ برسارہے تھے اسی لیے آپ نے بعدواقعہ كربلاايك سوال كے جواب میں ”الشام الشام الشام“ فرماياتھا(تحفہ حسينہ علامہ بسطامی)۔
شام پہنچنے كے كئی گھنٹوں يادنوں كے بعدآپ آل محمدكولیے ہئوے سرہائے شہدا سميت داخل دربارہوئے پھرقيدخانہ میں بندكردئیے گئے تقريباايك سال قيد كی مشقتیں جھيلیں۔
قيدخانہ بھی ايساتھاكہ جس میں تمازت آفتابی كی وجہ سے ان لوگوں كے چہروں كی كھالیں متغيرہوگئی تھیں (لہوف) مدت قيدكے بعدآپ سب كولیے ہوئے ۲۰/ صفر ۶۲ ھء كوواردہوئے آپ كے ہمراہ سرحسين بھی كردياگياتھا ،آپ نے اسے اپنے پدربزرگواركے جسم مبارك سے ملحق كيا(ناسخ تواريخ)۔
۸/ ربيع الاول ۶۲ ھ كوآپ امام حسين كالٹاہواقافلہ ہوئے مدينہ منورہ پہنچے ،وہاں كے لوگوں نے آہ وزاری اوركمال رنج وغم سے آپ كااستقبال كيا۔ ۱۵ شبانہ وروز نوحہ وماتم ہوتارہا (تفصيلی واقعات كے لیے كتب مقاتل وسيرملاحظہ كی جائیں۔
اس عظيم واقعہ كااثریہ ہواكہ زينب كے بال اس طرح سفيدہوگئے تھے كہ جاننے والے انہیں پہچان نہ سكے (احسن القصص ص ۱۸۲ طبع نجف) رباب نے سایہ میں بیٹھناچھوڑديا امام زين العابدين تاحيات گریہ فرماتے رہے (جلاء العيون ص ۲۵۶) اہل مدينہ يزيدكی بيعت سے عليحدہ ہوكرباغی ہوگئے بالآخرواقعہ حرہ كی نوبت آگئی۔
واقعہ كربلااورحضرت امام زين العابدين كے خطبات
معركہ كربلاكی غم آگیں داستاں تاريخ اسلام ہی نہیں تاريخ عالم كاافسوسناك سانحہ ہے حضرت امام زين العابدين علیہ السلام اول سے اخرتك اس ہوش ربا اورروح فرساواقعہ میں اپنے باپ كے ساتھ رہے اورباپ كی شہادت كے بعدخوداس المیہ كے ہيروبنے اورپھرجب تك زندہ رہے اس سانحہ كاماتم كرتے رہے ۔
۱۰/ محرم ۶۱ ھء كاواقعہ یہ اندوہناك حادثہ جس میں ۱۸/ بنی ہاشم اوربہتراصحاب وانصاركام آئے حضرت امام زين العابدين كی مدت العمرگھلاتارہا اورمرتے دم تك اس كی يادفراموش نہ ہوئی اوراس كاصدمہ جانكاہ دورنہ ہوا، آپ يوں تواس واقعہ كے بعدتقريبا چاليس سال زندہ رہے مگر لطف زندگی سے محروم ہرے اوركسی نے آپ كوبشاش اورفرحناك نہ ديكھا،اس جانكاہ واقعہ كربلاكے سلسلہ میں آپ نے جوجابجاخطبات ارشادفرمائے ہیں ان كاترجمہ درج ذيل ہے۔
كوفہ میں آپ كاخطبہ
كتاب لہوف ص ۶۸ میں ہے كہ كوفہ پہنچنے كے بعدامام زين العابدين نے لوگوں كوخاموش رہنے كااشارہ كيا،سب خاموش ہوگئے، آپ كھڑے ہوئے خداكی حمدوثناء كی ،حضرت نبی كاذكركيا، ان پرصلوات بھيجی پھرارشادفرماياائے لوگو! جومجھے جانتاہے وہ توپہچانتاہی ہے جونہیں جانتا اسے میں بتاتاہوں میں علی بن الحسين بن علی بن ابی طالب ہوں ،میں اس كافرزندہوں جس كی بے حرمتی كی گئی جس كاسامان لوٹاگياجس كے اہل وعيال قيدكردئیے گئے میں اس كافرزندہوں جوساحل فرات پرذبح كردياگيا،اوربغيركفن ودفن چھوڑدياگيااور(شہادت حسين)ہمارے فخركے لیے كافی ہے اے لوگو! تمہارابراہوكہ تم نے اپنے لیے ہلاكت كاسامان مہياكرليا، تمہاری رائیں كس قدربری ہیں تم كن آنكھوں سے رسول صلعم كوديكھوگے جب رسول صلعم تم سے بازپرس كریں گے كہ تم لوگوں نے ميری عترت كوقتل كيااورميرے اہل حرم كوذليل كيا ”اس لیے تم ميری امت میں نہیں“۔
مسجددمشق (شام) میں آپ كاخطبہ
مقتل ابی مخنف ص ۱۳۵ ،بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۲۳۳ ،رياض القدس جلد ۲ ص ۳۲۸ ، اورروضة الاحباب وغيرہ میں ہے كہ جب حضرت امام زين العابدين علیہ السلام اہل حرم سميت درباريزيدمیں داخل كئے گئے اور ان كومنبرپرجانے كاموقع ملاتوآپ منبرپرتشريف لے گئے اورانبياء كی طرح شيریں زبان میں نہايت فصاحت وبلاغت كے ساتھ خطبہ ارشادفرمايا :
ائے لوگو! تم سے جومجھے پہچانتاہے وہ توپہچانتاہی ہے، اورجونہیں پہچانتامیں اسے بتاتاہوں كہ میں كون ہوں؟ سنو، میں علی بن الحسين بن علی بن ابی طالب ہوں، میں اس كافرزندہوں جس نے حج كئے ہیں اس كافر زندہوں جس نے طواف كعبہ كياہے اورسعی كی ہے ، میں پسرزمزم وصفاہوں، میں فرزندفاطمہ زہراہوں، میں اسكافرزند جس پس گردن سے ذبح كياگيا،میں اس پياسے كافرزند ہوں جوپياساہی دنياسے اٹھا،میں اس كافرزندہوں جس پرلوگوں نے پانی بندكرديا، حالانكہ تمام مخلوقات پرپانی كوجائزقرارديا،میں محمدمصطفی صلعم كافرزندہوں، میں اس كافرزندہوں جوكربلامیںشہيدكياگيا،میں اس كافرزندہوں جس كے انصارزمين میں آرام كی نيندسوگئے میں اسكا پسرہوں جس كے اہل حرم قيدكردئے گئے میں اس كافرزندہوں جس كے بچے بغيرجرم وخطاذبح كرڈالے گئے ، میں اس كابیٹاہوں جس كے خيموں میں آگ لگادی گئی، میں اس كافرزندہوں جس كاسرنوك نيزہ پربلندكياگيا، میں اس كافرزندہوں جس كے اہل حرم كی كربلامیںبے حرمتی كی گئی، میں اس كافرزندہوں جس كاجسم كربلاكی زمين پرچھوڑدياگيااورسردوسرے مقامات پرنوك نيزہ پربلندكركے پھراياگيا میں اس كافرزندہوں جس كے اردگردسوائے دشمن كے كوئی اورنہ تھا،میں اس كافرزندہوں جس كے اہل حرم كوقيدكركے شام تك پھراياگيا، میں اس كافرزندہوں جوبے يارومددگارتھا۔
پھرامام علیہ السلام نے فرمايا لوگو! خدانے ہم كوپانچ فضيلت بخشی ہیں :
۱ ۔ خدا كی قسم ہمارے ہی گھرمیں فرشتوں كی آمدورفت رہی اورہم ہی معدن نبوت ورسالت ہیں۔
۲ ۔ ہماری شان میں قرآن كی آيتیں نازل كیں، اورہم نے لوگوں كی ہدايت كی۔
۳ ۔ شجاعت ہمارے ہی گھركی كنيزہے ،ہم كبھی كسی كی قوت وطاقت سے نہیں ڈرے اورفصاحت ہماراہی حصہ ہے، جب فصحاء فخرومباہات كریں۔
۴ ۔ ہم ہی صراط مستقيم اورہدايت كامركزہیں اوراس كے لیے علم كاسرچشمہ ہیں جوعلم حاصل كرناچاہے اوردنياكے مومنين كے دلوں میں ہماری محبت ہے۔
۵ ۔ ہمارے ہی مرتبے آسمانوں اورزمينوں میں بلندہیں ،اكرہم نہ ہوتے توخدادنياكوپيداہی نہ كرتا،ہرفخرہمارے فخركے سامنے پست ہے، ہمارے دوست (روزقيامت ) سيروسيراب ہوں گے اورہمارے دشمن روزقيامت بدبختی میں ہوں گے۔
جب لوگوں نے امام زين العابدين كاكلام سناتوچينخ ماركررونے اورپیٹنے لگے اوران كی آوازیں بے ساختہ بلندہونے لگیں یہ حال ديكھ كر يزيدگھبرااٹھاكہ كہیں كوئی فتنہ نہ كھڑاہوجائے اس نے اس كے ردعمل میں فورا موذن كوحكم ديا(كہ اذان شروع كركے) امام كے خطبہ كومنقطع كردے، موذن (گلدستہ اذان پرگيا) _
اوركہا”اللہ اكبر“ (خداكی ذات سب سے بزرگ وبرترہے) امام نے فرماياتونے ايك بڑی ذات كی بڑائی بيان كی اورايك عظيم الشان ذات كی عظمت كااظہاركيااورجوكچھ كہا”حق“ ہے ۔پھرموذن نے كہا”اشہد ان لاالہ الااللہ (میں گواہی ديتاہوں كہ خداكے سوا كوئی معبودنہیں) امام نے فرمايامیں بھی اس مقصدكی ہرگواہ كے ساتھ گواہی ديتاہوں اورہرانكاركرنے والے كے خلاف اقراركرتاہوں۔
پھرموذن نے كہ” اشہدان محمدارسول اللہ“ (میں گواہی ديتاہوں كہ محمدمصطفی اللہ كے رسول ہیں) فبكی علی، یہ سن كرحضرت علی ابن الحسين روپڑے اورفرماياائے يزيدمیںتجھ سے خداكاواسطہ دے كرپوچھتاہوں بتا حضرت محمدمصطفی ميرے ناناتھے ياتيرے ، يزيدنے كہاآپ كے، آپ نے فرمايا،پھركيوں تونے ان كے اہلبيت كوشہيدكيا، يزيدنے كوئی جواب نہ ديااوراپنے محل میں یہ كہتاہواچلاگيا۔”لاحاجة لی بالصلواة“ مجھے نمازسے كوئی واسطہ نہیں،اس كے بعد منہال بن عمركھڑے ہوگئے اوركہافرزندرسول آپ كاكياحال ہے، فرمايااے منہال ايسے شخص كاكياحال پوچھتے ہوجس كاباپ(نہايت بے دردی سے) شہيدكردياگياہو، جس كے مددگارختم كردئیے گئے ہوں جواپنے چاروں طرف اپنے اہل حرم كوقيدی ديكھ رہاہو،جن كانہ پردہ رہ گيانہ چادریں رہ گئیں، جن كانہ كوئی مددگارہے نہ حامی، تم توديكھ رہے ہوكہ میں مقيدہوں، ذليل ورسواكياگياہوں، نہ كوئی ميراناصرہے،نہ مددگار، میں اورميرے اہل بيت لباس كہنہ مين ملبوس ہیں ہم پرنئے لباس حرام كردئیے گئے ہیں اب جوتم ميراحال پوچھتے ہوتومیںتمہارے سامنے موجودہوں تم ديكھ ہی رہے ہو،ہمارے دشمن ہمیں برابھلاكہتے ہیں اورہم صبح وشام موت كاانتظاركرتے ہیں۔
پھرفرماياعرب وعجم اس پرفخركرتے ہیں كہ حضرت محمدمصطفی ان میں سے تھے، اورقريش عرب پراس لیے فخركرتے ہیں كہ آنحضرت صلعم قريش میں سے تھے اورہم ان كے اہلبيت ہیں ليكن ہم كوقتل كياگيا، ہم پرظلم كياگيا،ہم پرمصيبتوں كے پہاڑ توڑے گئے اورہم كوقيدكركے دربدرپھراياگيا،گوياہماراحسب بہت گراہواہے اورہمارانسب بہت ذليل ہے، گوياہم عزت كی بلنديوں پرنہیں چڑھے اوربزرگوں كے فرش پرجلوہ افروزنہیں ہوئے آج گويا تمام ملك يزيداوراس كے لشكركاہوگيااورآل مصطفی صلعم يزيد كی ادنی غلام ہوگئی ہے، یہ سنناتھا كہ ہرطرف سے رونے پیٹنے كی صدائیں بلندہوئیں_
يزيدبہت خائف ہوا كہ كوئی فتنہ نہ كھڑاہوجائے اس نے اس شخص سے كہاجس نے امام كومنبرپرتشريف لے جانے كے لیے كہاتھا ”ويحك اردت بصعودہ زوال ملكی“ تيرابراہوتوان كومنبربربٹھاكرميری سلطنت ختم كرناچاہتاہے اس نے جواب ديا، بخدا میں یہ نہ جانتاتھا كہ یہ لڑكا اتنی بلندگفتگوكرے گا يزيدنے كہاكياتونہیں جانتاكہ یہ اہلبيت نبوت اورمعدن رسالت كی ايك فردہے، یہ سن كرموذن سے نہ رہاگيا اوراس نے كہاایے يزيد”اذاكان كذالك فلماقتلت اباہ“ جب تویہ جانتاتھا توتونے ان كے پدربزرگواركوكيوں شہيدكيا،موذن كی گفتگوسن كريزيدبرہم ہوگيا،”فامربضرب عنقہ“ اورموذن كی گردن ماردينے كاحكم ديديا۔
مدينہ كے قريب پہنچ كرآپ كاخطبہ
مقتل ابی مخنف ص ۸۸ میں ہے (ايك سال تك قيدخانہ شام كی صعوبت برداشت كرنے كے بعدجب اہل بيت رسول كی رہائی ہوئی اوریہ قافلہ كربلاہوتاہوامدينہ كی طرف چلاتوقريب مدينہ پہنچ كرامام علیہ السلام نے لوگوں كوخاموش ہوجانے كااشارہ كيا،سب كے سب خاموش ہوگئے آپ نے فرمايا:
حداس خداكی جوتمام دنياكاپروردگارہے، روزجزاء كامالك ہے ، تمام مخلوقات كاپيداكرنے والاہے جواتنادورہے كہ بلندآسمان سے بھی بلندہے اوراتناقريب ہے كہ سامنے موجودہے اورہماری باتوں كاسنتاہے، ہم خداكی تعريف كرتے ہیں اوراس كاشكربجالاتے ہیں عظيم حادثوں،زمانے كی ہولناك گردشوں، دردناك غموں، خطرناك آفتوں ، شديدتكليفوں، اورقلب وجگركوہلادينے والی مصيبتوں كے نازل ہونے كے وقت اے لوگو! خداورصرف خداكے لیے حمدہے، ہم بڑے بڑے مصائب میں مبتلاكئے گئے ،ديواراسلام میں بہت بڑارخنہ(شگاف) پڑگيا، حضرت ابوعبداللہ الحسين اوران كے اہل بيت شہيدكردیے گئے، ان كی عورتیں اوربچے قيدكردئیے گئے اور(لشكريزيدنے)ان كے سرہائے مبارك كوبلندنيزوں پرركھ كر شہروں میں پھرايا، یہ وہ مصيبت ہے جس كے برابركوئی مصيبت نہیں، اے لوگو! تم سے كون مردہے جوشہادت حسين كے بعدخوش رہے ياكونسادل ہے جوشہادت حسين سے غمگين نہ ہوياكونسی آنكھ ہے جوآنسوؤں كوروك سكے، شہادت حسين پرساتوں آسمان روئے، سمندراوراس كی شاخیں ورئیں، مچھلياں اورسمندركے گرداب روئے ملائكہ مقربين اورتمام آسمان والے روئے، اے لوگو! كون ساقطب ہے جوشہادت حسين كی خبرسن كرنہ پھٹ جائے، كونساقلب ہے جومحزون نہ ہو، كونساكان ہے جواس مصيبت كوسن كرجس سے ديواراسلام میں رخنہ پڑا،بہرہ نہ ہو، اے لوگو! ہماری یہ حالت تھی كہ ہم كشاں كشاں پھرائے جاتے تھے، دربدرٹھكرائے جاتے تھے ذليل كئے گئے شہروں سے دورتھے، گوياہم كواولادترك وكابل سمجھ لياگياتھا ،حالانكہ نہ ہم نے كوئی جرم كياتھا نہ كسی برائی كاارتكاب كياتھا نہ ديواراسلام میں كوئی رخنہ ڈالاتھا اورنہ ان چيزوں كے خلاف كياتھاجوہم نے اپنے اباؤاجدادسے سناتھا،خداكی قسم اگرحضرت نبی بھی ان لوگوں(لشكريزيد) كوہم سے جنگ كرنے كے لیے منع كرتے (تویہ نہ مانتے) جيساكہ حضرت نبی نے ہماری وصايت كااعلان كيا(اوران لوگوں نے مانا)بلكہ جتنا انہوں نے كياہے اس سے زيادہ سلوك كرتے،ہم خداكے لیے ہیں اورخداكی طرف ہماری بازگشت ہے“۔
روضہ رسول پرامام علیہ السلام كی فرياد
مقتل ابی مخنف ص ۱۴۳ میں ہے كہ جب یہ لٹاہواقافلہ مدينہ میں داخل ہواتوحضرت ام كلثوم گریہ وبكاكرتی ہوئی مسجدنبوی میں داخل ہوئیں اورعرض كی، اے ناناآپ پرميراسلام ہو”انی ناعية اليك ولدك الحسين“ میں آپ كوآپ كے فرزندحسين كی خبرشہادت سناتی ہوں، یہ كہناتھا كہ قبررسول سے گریہ كی صدابلندہوئی اورتمام لوگ رونے لگے پھرحضرت امام زين العابدين علیہ السلام اپنے ناناكی قبرمبارك پرتشريف لائے اوراپنے رخسارقبرمطہرسے رگڑتے ہوئے يوں فريادكرنے لگے :
اناجيك ياجداہ ياخيرمرسل
اناجيك محزوناعليك موجلا
سبيناكماتسبی الاماء ومسنا
حبيبك مقتول ونسلك ضائع
اسيرا ومالی حاميا ومدافع
من الضرمالاتحملہ الاصابع
ترجمہ: میں آپ سے فريادكرتاہوں اے نانا، اے تمام رسولوں میں سب سے بہتر،آپ كامحبوب ”حسين“ شہيدكردياگيا اورآپ كی نسل تباہ وبربادكردی گئی، اے نانامیں رنج وغم كاماراآپ سے فريادكرتاہوں مجھے قيد كياگياميراكوئی حامی ومددگار نہ تھا اے نانا ہم سب كواس طرح قيدكياگيا،جس طرح (لاوارث) كنيزوں كوقيدكيا جاتاہے،اے ناناہم پراتنے مصائب ڈھائے گئے جوانگليوں پرگنے نہیں جاسكتے۔
امام زين العابدين اورخاك شفا
مصباح المتہجد میں ہے كہ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كے پاس ايك كپڑے میں بندھی ہوئی تھوڑی سی خاك شفاء كرتی تھی (مناقب جلد ۲ ص ۳۲۹ طبع ملتان)۔
حضرت كے ہمراہ خاك شفاء كاہميشہ رہناتين حال سے خالی نہ تھايااسے تبركاركھتے تھے يااس پرنمازمیں سجدہ كرتے تھے يااسے بحيثيت محافظ ركھتے تھے اورلوگوں كویہ بتانا مقصودرہتاتھا كہ جس كے پاس خاك شفاء ہووہ جملہ مصائب وآلام سے محفوظ رہتاہے اوراس كامال چوری نہیں ہوتا جيساكہ احاديث سے واضح ہے ۔
امام زين العابدين اورمحمدحنفیہ كے درميان حجراسودكافيصلہ
آل محمدكے مدينہ پہنچنے كے بعدامام زين العابدين كے چچامحمدحنفیہ نے بروايت اہل اسلام امام سے خواہش كی كہ مجھے تبركات امامت ديدو، كيونكہ میں بزرگ خاندان اورامامت كااہل وحقدارہوں آپ نے فرماياكہ حجراسودكے پاس چلووہ فيصلہ كردے گا جب یہ حضرات اس كے پاس پہنچے تووہ بحكم خدايوں بولا ”امامت زين العابدين كاحق ہے“ اس فيصلہ كودونوں نے تسليم كرليا(شواہدالنبوت ص ۱۷۶) ۔
كامل مبردمیں ہے كہ اس واقعہ كے بعدسے محمدحنفیہ ،امام زين العابدين كی بڑی عزت كرتے تھے ايك دن ابوخالدكابلی نے ان سے اس كی وجہ پوچھی توكہاكہ حجراسودنے خلافت كاان كے حق میں فيصلہ دے دياہے اوریہ امام زمانہ ہیں یہ سنكر وہ مذہب امامیہ كاقائل ہوگيا(مناقب جلد ۲ ص ۳۲۶) ۔
ثبوت امامت میں امام زين العابدين كاكنكری پرمہرفرمانا
اصول كافی میں ہے كہ ايك عورت جس كی عمر ۱۱۳ سال كی ہوچكی تھی ايك دن امام زين العابدين كے پاس آئی اس كے پاس وہ كنكری تھی جس پرحضرت علی امام حسن ،امام حسين كی مہرامامت لگی ہوئی تھی اس كے آتے ہی بلاكہے ہوئے آپ نے فرماياكہ وہ كنكری لاجس پرميرے آباؤاجدادكی مہریں لگی ہوئی ہیں اس پر میں بھی مہركردوں چنانچہ اس نے كنكری ديدی آپ نے اسے مہركركے واپس كردی، اوراس كی جوانی بھی پلٹادی،وہ خوش وخرم واپس چلی گئی (دمعہ ساكبہ جلد ۲ ص ۴۳۶) ۔
واقعہ حرہ اورامام زين العابدين علیہ السلام
مستندتواريخ میں ہے كہ كربلاكے بے گناہ قتل نے اسلام میں ايك تہلكہ ڈال دياخصوصا ايران میں ايك قوی جوش پيداكرديا،جس نے بعدمیں بنی عباس كوبنی امیہ كے غارت كرنے میں بڑی مدددی چونكہ يزيدتارك الصلواة اورشارب الخمرتھاا وربیٹی بہن سے نكاح كرتااوركتوں سے كھيلتاتھا ،اس كی ملحدانہ حركتوں اورامام حسين كے شہيدكرنے سے مدينہ میں اس قدرجوش پھيلاكر ۶۲ ھء میں اہل مدينہ نے يزيدكی معطلی كااعلان كرديااورعبداللہ بن حنظلہ كواپناسرداربناكريزيدكے گورنرعثمان بن محمدبن ابی سفيان كومدينہ سے نكال ديا، سيوطی تاريخ الخلفاء میں لكھتاہے كہ غسيل الملائكہ (حنظلہ) كہتے ہیں كہ ہم نے اس وقت يزيدكی خلافت سے انكارنہیں كياجب تك ہمیں یہ يقين نہیں ہوگياكہ آسمان سے پتھربرس پڑیں گے غضب ہے كہ لوگ ماں بہنوں،اوربیٹيوں سے نكاح كریں ۔ علانیہ شرابیں پئیں اورنمازچھوڑبیٹھیں ۔
يزيدنے مسلم بن عقبہ كوجوخونريزی كی كثرت كے سبب ”مسرف“ كے نام سے مشہورہے ،فوج كثيردے كر اہل مدينہ كی سركوبی كوروانہ كيااہل مدينہ نے باب الطيبہ كے قريب مقام”حرہ“ پرشاميوں كامقابلہ كيا،گھمسان كارن پڑا،مسلمانوںكی تعدادشاميوں سے بہت كم تھی باوجوديكہ انہوں نے دادمردانگی دی ،مگرآخرشكست كھائی ،مدينہ كے چيدہ چيدہ بہادررسول اللہ كے بڑے بڑے صحابی انصارومہاجراس ہنگامہ آفت میں شہيدہوئے، شامی شہرمیں گھس گئے مزارات كوان كی زينت وآرايش كی خاطرمسماركرديا،ہزاروں عورتوں سے بدكاری كی ہزاروں باكرہ لڑكيوں كاازالہ بكارت كرڈالا،شہركولوٹ ليا،تين دن قتل عام كرايا،دس ہزارسے زائدباشندگان مدينہ جن میں سات سومہاجروانصاراوراتنے ہی حاملان وحافظان قران علماء وصلحاء ومحدث تھے اس واقعہ میں مقتول ہوئے ہزاروں لڑكے لڑكياں غلام بنائی گئیں اورباقی لوگوں سے بشرط قبول غلامی يزيدكی بيعت لی گئی۔
مسجد نبوی اورحضرت كے حرم محترم میں گھوڑے بندھوائے گئے یہاں تك كہ ليدكے انبارلگ گئے یہ واقعہ جوتاريخ اسلام میں واقعہ حرہ كے نام سے مشہورہے ۔ ۲۷/ ذی الحجہ ۶۳ ھء كو ہواتھا اس واقعہ پرمولوی اميرعلی لكھتے ہیںكہ كفروبت پرستی نے پھرغلبہ پايا، ايك فرنگی مورخ لكھتاہے كہ كفركادوبارہ جنم لينااسلام كے لیے سخت خوفناك اورتباہی بخش ثابت ہوابقیہ تمام مدينہ كويزيدكاغلام بناياگيا،جس نے انكاركيا اس كاسراتارلياگيا، اس رسوائی سے صرف دوآدمی بچے ”علی بن الحسين“ اورعلی بن عبداللہ بن عباس ان سے يزيدكی بيعت بھی نہیں لی گئی ۔
مدارس شفاخانے اورديگررفاہ عام كی عمارتیں جوخلفاء كے زمانے میں بنائی گئیں تھی ياتوبندكردی گئیں يامسماراورعرب پھرايك ويرانہ بن گيا،اس كے چندمدت بعدعلی بن الحسين كے پوتے جعفرصادق نے اپنے جدامجدعلی مرتضی كامكتب خانہ پھرمدينہ میں جاری كيا،مگریہ صحرامیں صرف ايك ہی سچانخلستان تھا اس كے چاروں طرف ظلمت وضلالت چھائی ہوئی تھی ،مدينہ پھركبھی نہ سنبھل سكا، بنی امیہ كے عہدمیں مدينہ ايسی اجڑی بستی ہوگياكہ جب منصورعباس زيارت كومدينہ میں آياتواسے ايك رہنماكی ضرورت پڑی جواس كووہ مكانات بتائے جہاں ابتدائی زمانہ كے بزرگان اسلام رہاكرتے تھے (تاريخ اسلام جلد ۱ ص ۳۶ ، تاريخ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۹۱ ،تاريخ فخری ص ۸۶ ،تاريخ كامل جلد ۴ ص ۴۹ ،صواعق محرقہ ص ۱۳۲) ۔
واقعہ حرہ اورآپ كی قيام گاہ
تواريخ سے معلوم ہوتاہے كہ آپ كی ايك چھوٹی سی جگہ ”منبع“ نامی تھی جہاں كھيتی باڑی كاكام ہوتاتھا واقعہ حرہ كے موقع پرآپ شہرمدينہ سے نكل كراپنے گاؤں چلے گئے تھے (تاريخ كامل جلد ۴ ص ۴۵) یہ وہی جگہ ہے جہاں حضرت علی خليفہ عثمان كے عہدمیں قيام پذيرتھے (عقدفريدجلد ۲ ص ۲۱۶) ۔
خاندانی دشمن مروان كے ساتھ آپ كی كرم گستری
واقعہ حرہ كے موقع پرجب مروان نے اپنی اوراہل وعيال كی تباہی وبربادی كايقين كرلياتوعبداللہ بن عمركے پاس جاكركہنے لگاكہ ہماری محافظت كرو، حكومت كی نظرميری طرف سے بھی پھری ہوئی ہے ،میں جان اورعورتوں كی بے حرمتی سے ڈرتاہوں ،انہوں نے صاف انكاركرديا،اس وقت وہ امام زين العابدين كے پاس آيااوراس نے اپنی اوراپنے بچوں كی تباہی وبربادی كاحوالہ دے كرحفاظت كی درخواست كی حضرت نے یہ خيال كیے بغيركہ یہ خاندانی ہمارادشمن ہے اوراس نے واقعہ كربلاكے سلسلہ میں پوری دشمنی كامظاہرہ كياہے آپ نے فرماديابہترہے كہ اپنے بچوں كوميرے پاس بمقام منبع بھيجدو، جہاں ميرے بچے رہیں گے تمہارے بھی رہیں گے چنانچہ وہ اپنے بال بچوں كوجن میں حضرت عثمان كی بیٹی عائشہ بھی تھیں آپ كے پاس پہنچاگيااورآپ نے سب كی مكمل حفاظت فرمائی (تاريخ كامل جلد ۴ ص ۴۵) ۔
دشمن ازلی حصين بن نميركے ساتھ آپ كی كرم نوازی
مدينہ كوتباہ وبربادكرنے كے بعدمسلم بن عقبہ ابتدائے ۶۴ ھ میں مدينہ سے مكہ كوروانہ ہوگيااتفاقا راہ میں بيمارہوكروہ گمراہ راہی جہنم ہوگيا،مرتے وقت اس نے حصين بن نميركواپناجانشين مقرركرديااس نے وہاں پہنچ كرخانہ كعبہ پرسنگ باری كی اوراس میں آگ لگادی، اس كے بعدمكمل محاصرہ كركے عبداللہ ابن زبير كوقتل كرناچاہا اس محاصرہ كوچاليس دن گزرے تھے كہ يزيدپليدواصل جہنم ہوگيا، اس كے مرنے كی خبرسے ابن زبيرنے غلبہ حاصل كرليااوریہ وہاں سے بھاگ كرمدينہ جاپہنچا۔
مدينہ كے دوران قيام میں اس معلون نے ايك دن بوقت شب چندسواروں كولے كرفوج كے غذائی سامان كی فراہمی كے لیے ايك گاؤں كی راہ پكڑی ،راستہ میں اس كی ملاقات حضرت امام زين العابدين سے ہوگئی ،آپ كے ہمراہ كچھ اونٹ تھے جن پرغذائی سامان لداہواتھا اس نے آپ سے وہ غلہ خريدناچاہا، آپ نے فرماياكہ اگرتجھے ضرورت ہے تويونہی لے لے ہم اسے فروخت نہیں كرسكتے (كيونكہ میں اسے فقراء مدينہ كے لیے لاياہوں) اس نے پوچھاكہ آپ كانام كياہے،آپ نے فرمايامجھے ”علی بن الحسين“ كہتے ہیں پھرآپ نے اس سے نام دريافت كياتواس نے كہامیں حصين بن نميرہوں، اللہ رے، آپ كی كرم نوازی، آپ جاننے كہ باوجودكہ یہ ميرے باپ كے قاتلوں میں سے ہے اسے ساراغلہ مفت ديديا(اورفقراء كے لیے دوسرابندوبست فرمايا) اس نے جب آپ كی یہ كرم گستری ديكھی اوراچھی طرح پہچان بھی لياتوكہنے لگاكہ يزيدكاانتقال ہوچكاہے آپ سے زيادہ مستحق خلافت كوئی نہیں، آپ ميرے ساتھ تشريف لے چلیں، میں آپ كوتخت خلافت پربٹھاؤں گا،آپ نے فرماياكہ میں خداوندعالم سے عہدكرچكاہوں كہ ظاہری خلافت قبول نہ كرو ں گا، یہ فرماكر آپ اپنے دولت سراكوتشريف لے گئے(تاريخ طبری فارسی ص ۶۴۴) ۔
امام زين العابدين اورفقراء مدينہ كی كفالت
علامہ ابن طلحہ شافعی لكھتے ہیں كہ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام فقراء مدينہ كے سوگھروں كی كفالت فرماتے تھے اورساراسامان ان كے گھرپہنچاياكرتے تھے جنہیں آپ بہ بھی معلوم نہ ہونے ديتے تھے كہ یہ سامان خوردونوش رات كوكون دے جاتاہے آپ كااصول یہ تھاكہ بورياں پشت پرلادكر گھروں میں روٹی اورآٹا وغيرہ پہنچاتے تھے اوریہ سلسلہ تابحيات جاری رہا، بعض معززين كاكہناہے كہ ہم نے اہل مدينہ كویہ كہتے ہوئے سناہے كہ امام زين العابدين كی زندگی تك ہم خفیہ غذائی رسد سے محروم نہیں ہوئے۔ (مطالب السؤل ص ۲۶۵ ،نورالابصار ص ۱۲۶) ۔
امام زين العابدين اوربنيادكعبہ محترمہ ونصب حجراسود
۷۱ ھ میں عبدالملك بن مروان نے عراق پرلشكركشی كركے مصعب بن زبيركوقتل كيا بھر ۷۲ ھء میں حجاج بن يوسف كوايك عظيم لشكركے ساتھ عبداللہ بن زبيركو قتل كرنے كے لیے مكہ معظمہ روانہ كيا۔(ابوالفداء)۔
وہاں پہنچ كرحجاج نے ابن زبيرسے جنگ كی ابن زبيرنے زبردست مقابلہ كيا اوربہت سی لڑائياں ہوئیں ،آخرمیں ابن زبيرمحصورہوگئے اورحجاج نے ابن زبيركوكعبہ سے نكالنے كے لیے كعبہ پرسنگ باری شروع كردی، یہی نہیں بلكہ اسے كھدواڈالا، ابن زبيرجمادی الآخر ۷۳ ھء میں قتل ہوا(تاريخ ابن الوردی)۔ اورحجاج جوخانہ كعبہ كی بنيادتك خراب كرچكاتھا اس كی تعميركی طرف متوجہ ہوا۔ علامہ صدوق كتاب علل الشرائع میں لكھتے ہیں كہ حجاج كے ہدم كعبہ كے موقع پرلوگ اس كی مٹی تك اٹھاكرلے گئے اوركعبہ كواس طرح لوٹ لياكہ اس كی كوئی پرانی چيزباقی نہ رہی، پھرحجاج كوخيال پيداہواكہ اس كی تعميركرانی چاہئے چنانچہ اس نے تعميركاپروگرام مرتب كرليااوركام شروع كراديا،كام كی ابھی بالكل اتبدائی منزل تھی كہ ايك اژدھابرآمدہوكرايسی جگہ بیٹھ گياجس كے ہٹے بغيركام آگے نہیں بڑھ سكتاتھا لوگوں نے اس واقعہ كی اطلاع حجاج كودی، حجاج گھبرااٹھا اورلوگوں كوجمع كركے ان سے مشورہ كياكہ اب كياكرناچاہئے جب لوگ اس كاحل نكالنے سے قاصررہے توايك شخص نے كھڑے ہوكركہاكہ آج كل فرزندرسول حضرت امام زين العابدين علیہ السلام یہاں آئے ہوئے ہیں، بہترہوگا كہ ان سے دريافت كراياجائے یہ مسئلہ ان كے علاوہ كوئی حل نہیںكرسكتا، چنانچہ حجاج نے آپ كوزحمت تشريف آوری دی، آپ نے فرماياكہ اے حجاج تونے خانہ كعبہ كواپنی ميراث سمجھ لياہے تونے توبنائے ابراہيم علیہ السلام كواكھڑوا كر راستہ میں ڈلوادياہے ”سن“ تجھے خدااس وقت تك كعبہ كی تعميرمیں كامياب نہ ہونے دیے گا جب تك توكعبہ كالٹاہواسامان واپس نہ منگائے گا، یہ سن كراس نے اعلان كياكہ كعبہ سے متعلق جوشے بھی كسی كے پاس ہووہ جلدسے جلد واپس كرے، چنانچہ لوگوں نے پتھرمٹی وغيرہ جمع كردی جب آپ اس كی بنياداستواركی اورحجاج سے فرماياكہ اس كے اوپرتعميركراؤ ”فلذالك صار البيت مرتفعا“ پھراسی بنيادپرخانہ كعبہ كی تعميرہوئی (كتاب الخرائج والجرائح میں علامہ قطب راوندی لكھتے ہیں كہ جب تعميركعبہ اس مقام تك پہنچی جس جگہ حجراسودنصب كرناتھا تویہ دشواری پيش ہوئی كہ جب كوئی عالم،زاہد، قاضی اسے نصب كرتاتھا تو”يتزلزل ويضطرب ولايستقر“ حجراسودمتزلزل اورمضطرب رہتا اوراپنے مقام پرٹہرتانہ تھا بالآخرامام زين العابدين علیہ السلام بلائے گئے اورآپ نے بسم اللہ كہہ كراسے نصب كرديا، یہ ديكھ كر لوگوں نے اللہ اكبركانعرہ لگايا(دمعہ ساكبہ جلد ۲ ص ۴۳۷) ۔
علماء ومورخين كابيان ہے كہ حجاج بن يوسف نے يزيدبن معاویہ ہی كی طرح خانہ كعبہ پرمنجنيق سے پتھروغيرہ پھنكوائے تھے۔
امام زين العابدين اورعبدالملك بن مروان كاحج
بادشاہ دنياعبدالملك بن مروان اپنے عہدحكومت میں اپنے پایہ تخت سے حج كے لیے روانہ ہوكرمكہ معظمہ پہنچااوربادشاہ دين حضرت امام زين العابدين بھی مدينہ سے روانہ ہوكرپہنچ گئے مناسك حج كے سلسلہ میں دونوں كاساتھ ہوگيا، حضرت امام زين العابدين آگے آگے چل رہے تھے اوربادشاہ پيچھے چل رہاتھا عبدالملك بن مروان كویہ بات ناگوارہوئی اوراس نے آپ سے كہاكيامیں نے آپ كے باپ كوقتل كياہے جوآپ ميری طرف متوجہ نہیں ہوتے، آپ نے فرماياكہ جس نے ميرے باپ كوقتل كياہے اس نے اپنی ديناوآخرت خراب كرلی ہے كياتوبھی یہی حوصلہ ركھتاہے اس نے كہانہیں ميرامطلب یہ ہے كہ آپ ميرے پاس ائیں تاكہ میں آپ سے كچھ مالی سلوك كروں، آ پ نے ارشادفرمايا مجھے تيرے مال دنياكی ضرورت نہیں ہے مجھے دينے والاخداہے یہ كہہ كر آپ نے اسی جگہ زمين پرردائے مبارك ڈال دی اوركعبہ كی طرف اشارہ كركے كہا،ميرے مالك اسے بھردے، امام كی زبان سے الفاظ كانكلنا تھاكہ ردائے مبارك موتيوں سے بھرگئی ،آپ نے اسے راہ خدامیں ديديا(دمعہ ساكبہ،جنات الخلود ص ۲۳) ۔
امام زين العابدين علیہ السلام اخلاق كی دنيامیں
امام زين العابدين علیہ السلام چونكہ فرزندرسول تھے اس لئے آپ میں سيرت محمدیہ كاہونالازمی تھا علامہ محمدابن طلحہ شافعی لكھتے ہیں كہ ايك شخص نے آپ كوبرابھلاكہا، آپ نے فرمايابھائی میں نے توتيراكچھ نہیں بگاڑا،اگركوئی حاجت ركھتاہے توبتاتاكہ میں پوری كروں ،وہ شرمندہ ہوكرآپ كے اخلاق كاكلمہ پڑھنے لگا(مطالب السؤل ص ۲۶۷) ۔
علامہ ابن حجرمكی لكھتے ہیں ،ايك شخص نے آپ كی برائی آپ كے منہ پركی آپ نے اس سے بے توجہی برتی، اس نے مخاطب كركركے كہا،میں تم كوكہہ رہاہوں، آپ نے فرمايا،میں حكم خدا”واعرض عن الجاہلين“ جاہلوں كی بات كی پرواہ نہ كرو پرعمل كررہاہوں (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔ علامہ شبلنجی لكھتے ہیں كہ ايك شخص نے آپ سے آكركہاكہ فلاں شخص آپ كی برائی كررہاتھا آپ نے فرمايا كہ مجھے اس كے پاس لے چلو، جب وہاں پہنچے تواس سے فرمايابھائی جوبات تونے ميرے لیے كہی ہے، اگرمیں نے ايساكياہوتوخدامجھے بخشے اوراگرنہیں كياتوخداتجھے بخشے كہ تونے بہتان لگايا۔
ايك روايت میں ہے كہ آپ مسجدسے نكل كرچلے توايك شخص آپ كوسخت الفاظ میں گالياں دينے لگا آپ نے فرماياكہ اگركوئی حاجت ركھتاہے تومیں پوری كروں، ”اچھالے“ یہ پانچ ہزاردرہم ،وہ شرمندہ ہوگيا۔ ايك روايت میں ہے كہ ايك شخص نے آپ پربہتان باندھا،آپ نے فرماياميرے اورجہنم كے درميان ايك گھاٹی ہے،اگرمیں نے اسے طے كرلياتوپرواہ نہیں جوجی چاہے كہواوراگراسے پارنہ كرسكاتومیں اس سے زيادہ برائی كامستحق ہوں جوتم نے كی ہے (نورالابصار ص ۱۲۷ ۔ ۱۲۶) ۔
علامہ دميری لكھتے ہیں كہ ايك شامی حضرت علی كوگالياں دے رہاتھا،امام زين العابدين نے فرمايا بھائی تم مسافرمعلوم ہوتے ہو،اچھا ميرے ساتھ چلو،ميرے یہاں قيام كرو،اورجوحاجت ركھتے ہوبتاؤتاكہ میں پوری كروں وہ شرمندہ ہوكرچلاگيا(حيواة الحيوان جلد ۱ ص ۱۲۱) ۔ علامہ طبرسی لكھتے ہیں كہ ايك شخص نے آپ سے بيان كياكہ فلاں شخص آپ كوگمراہ اوربدعتی كہتاہے،آپ نے فرماياافسوس ہے كہ تم نے اس كی ہمنشينی اوردوستی كاكوئی خيال نہ كيا، اورا سكی برائی مجھ سے بيان كردی،ديكھویہ غيبت ہے ،اب ايساكبھی نہ كرنا(احتجاج ص ۳۰۴) ۔
جب كوئی سائل آپ كے پاس آتاتھا توخوش ومسرورہوجاتے تھے اورفرماتے تھے خداتيرابھلاكرے كہ توميرازادراہ آخرت اٹھانے كے لیے آگياہے (مطالب السؤل ص ۲۶۳) ۔ امام زين العابدين علیہ السلام صحيفہ كاملہ میں فرماتے ہیں خداوندميراكوئی درجہ نہ بڑھا،مگریہ كہ اتناہی خودميرے نزديك مجھ كوگھٹا اورميرے لیے كوئی ظاہری عزت نہ پيداكرمگریہ كہ خودميرے نزديك اتنی ہی باطنی لذت پيداكردے۔
امام زين العابدين اورصحيفہ كاملہ
كتاب صحيفہ كاملہ آپ كی دعاؤں كامجموعہ ہے اس میں بے شمارعلوم وفنون كے جوہرموجوہیں یہ پہلی صدی كی تصنيف ہے (معالم العلماء ص ۱ طبع ايران)۔
اسے علماء اسلام نے زبورآل محمداورانجيل اہلبيت كہاہے (ينابيع المودة ص ۴۹۹ ،فہرست كتب خانہ طہران ص ۳۶) ۔ اوراس كی فصاحت وبلاغت معانی كوديكھ كراسے كتب سماویہ اورصحف لوحیہ وعرشیہ كادرجہ دياگياہے (رياض السالكين ص ۱) اس كی چاليس شرحیں ہیں جن میں ميرے نزديك رياض السالكين كو فوقيت حاصل ہے۔
امام زين العابدين عمربن عبدالعزيزكی نگاہ میں
۸۶ ھ میں عبدالملك بن مروان كے انتقال كے بعداس كابیٹاوليد بن عبدالملك خليفہ بناياگيایہ حجاج بن يوسف كی طرح نہايت ظالم وجابرتھا اسی كے عہدظلمت مين عمربن عبدالعزيزجوكہ وليدكاچچازادبھائی تھا حجازكاگورنرہوایہ برامنصف مزاج اورفياض تھا ،اسی كے عہدگورنری كاايك واقعہ یہ ہے كہ ۸۷ ھ ء میں سروركائنات كے روضہ كی ايك ديوارگرگئی تھی جب اس كی مرمت كاسوال پيداہوا، اوراس كی ضرورت محسوس ہوئی كہ كسی مقدس ہستی كے ہاتھ سے اس كی ابتداء كی جائے توعمربن عبدالعزيزنے حضرت امام زين العابدين علیہ السلام ہی كوسب پرترجيح دی (وفاء الوفاء جلد ۱ ص ۳۸۶) ۔
اسی نے فدك واپس كياتھا اوراميرالمومنين پرسے تبراء كی وہ بدعت جومعاویہ نے جاری كی تھی، بندكرائی تھی۔
امام زين العابدين علیہ السلام كی شہادت
آپ اگرچہ گوشہ نشينی كی زندگی بسرفرمارہے تھے ليكن آپ كے روحانی اقتداركی وجہ سے بادشاہ وقت وليدبن عبدالملك نے آپ كوزہرديديا،اورآپ بتاريخ ۲۵/ محرم الحرام ۹۵ ھ مطابق ۷۱۴ كودرجہ شہادت پرفائزہوگئے امام محمدباقرعلیہ السلام نے نمازجنازہ پڑھائی اورآپ مدينہ كے جنت البقيع میں دفن كردئیے گئے علامہ شبلنجی ،علامہ ابن حجر،علامہ ابن صباغ مالكی، علامہ سبط ابن جوزی تحريرفرماتے ہیں كہ ”وان الذی سمہ الوليدبن عبدالملك“ جس نے آپ كوزہردے كر شہيدكيا،وہ وليدبن عبدالملك خليفہ وقت ہے (نورالابصار ص ۱۲۸ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۰ ،فصول المہمہ، تذكرہ سبط ابن جوزی، ارجح المطالب ص ۴۴۴ ، مناقب جلد ۴ ص ۱۳۱) ۔
ملاجامی تحريرفرماتے ہیں كہ آپ كی شہادت كے بعدآپ كاناقہ قبرپرنالہ وفريادكرتاہوا تين روزمیں مرگيا (شواہد النبوت ص ۱۷۹ ، شہادت كے وقت آپ كی عمر ۵۷/ سال كی تھی۔
آپ كی اولاد
علماء فريقين كااتفاق ہے كہ آپ نے گيارہ لڑكے اورچارلڑكياں چھوڑیں۔(صواعق محرقہ ص ۱۲۰ ،وارجح المطالب ص ۴۴۴) ۔
علامہ شيخ مفيدفرماتے ہیں كہ ان پندرہ اولادكے نام یہ ہیں ۱ ۔ حضرت امام محمدباقر آپ كی والدہ حضرت امام حسن كی بیٹی ام عبداللہ جناب فاطمہ تھیں۔ ۲ ۔ عبداللہ ۳ ۔ حسن ۴ ۔زيد ۵ ۔عمر ۶ ۔ حسين ۷ ۔عبدالرحمن ۸ ۔سليمان ۹ ۔علی ۱۰ ۔محمد اصغر ۱۱ ۔حسين اصغر ۱۲ ۔خديجہ ۱۳ ۔فاطمة، ۱۴ ۔علیہ ۱۵ ۔ ام كلثوم (ارشاد مفيد فارسی ص ۴۰۱) ۔
منبع: www.al-shia.com