بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق آج ۲۶ اگست كی صبح كو مجلس خبرگان كا چوتھا اجلاس اس كونسل كے صدر آيت اللہ اكبر ہاشمی رفسنجانی كے خطاب سے آغاز ہوا۔
آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے كہا كہ تقريباً ۲۵ سال پہلے اس ملك اور انقلاب اسلامی كی مركزی مسئلہ يعنی قيادت كے بارے میں بحث و گفتگو كے لیےيه خبرگان كونسل وجود میں آئی۔ مجمع تشخيص مصلحت نظٓام كے صدر نے كہا كہ خبرگان رہبری كونسل كے نمائندوں كی كچھ شرائط ہیں جن میں سے اجتہاد، عدل ، زمانے كے حالات سے آگاہی شامل ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ یہ كونسل ملك كے مالی اور سياسی اخراجات پر قائم نہیں ہے اور بيت المال سے ايك پائی بھی وصول نہیں كرتی اور خداوند متعال كی رضا كی خاطر اپنا دينی اور انسانی فريضہ انجام دے رہی ہے۔ ہاشمی رفسنجانی نے كہا كہ معاشرہ كے موجودہ حساس حالات ، بہت زيادہ ہوشياررہنے كا تقاضا كرتے ہیں۔ انھون نے عراق میں موجود امريكی فوجيوں اور افغانستان میں موجود نیٹو كی افواج پر تنقيد كرتے ہوئے كہا كہ یہ لوگ مشرق وسطی رضائے خدا كے لیے نہیں آئے بلكہ اس علاقے كے وسائل پر قبضہ كرنے كے لیے آئے ہیں۔ خبرگان كونسل كے صدر نے آخر میں كہا كہ ہم آپس میں پيار و محبت اور اتحاد و وحدت كے ذريعے ، اسلامی ممالك كے لیے بہترين آئیڈيل بن سكتے ہیں۔
286179