ہر سال ہفتہ حكومت كے ايام وزارت عظمی كے دفتر میں منافقين كے بم ركھنے اور شہيد رجايی اور باہنر كی شہادت كی ياد دلاتے ہیں اور اسی طرح ہمارے ملك میں اس دن كو دہشتگردی سے مقابلہ كرنے كے دن كے طور پر منايا جاتا ہے اور یہ دن ہمیں یہ ياد دلاتا ہے كہ ايران اسلامی میں ہمارے بہت سے عزيز اس دہشتگر دی كی بھينٹ چڑھے ہیں۔ دہشتگردی سے مقابلے كے لیے ايك خصوصی دن كو قرار دينا، ہمارے ملك میں اس دہشتگردی كو جڑ سے اكھاڑ پھينكنے كے لیے ايك مضبوط ثقافت اور سنجيدہ ہدف كی حكايت كرتا ہے۔
تاريخ، دہشتگردی كے واقعات سے بھری پڑی ہے جس نے بہت سے بے گناہ افراد كی جان لی ہے يا ان كی زندگيوں كو خطرے میں ڈالا ہے اور انسانوں كو اس كے بنيادی حقوق اور آزاديوں سے محروم كيا ہوا ہے ، حكومتوں كے درميان دوستانہ تعلقات خطرے میں ہیں۔ گزشتہ دور كی دہشتگردی كا ہمارے اس دور كی دہشتگردی میں فرق یہ ہے كہ اس وقت دہشتگردی كی اس وبا نے تمام اقوام اور علاقوں كو اپنی لپیٹ میں ليا ہوا ہے۔ ہمارے دور میں دہشتگردی ايك قومی دھمكی سے بين الاقوامی دھمكی میں تبديل ہو گئی ہے۔ اس دور میں دہشتگرد، سرحد پار افراد سے تعلقات قائم كر كے اور مالی امداد لے كرجہاں پر چاہتے ہیں دہشتگردی كرتے ہیں۔
دہشتگردی كی تعريف: لفظ ٹرور، كا معنی ڈرانا اور وحشت ڈالنا ہے ، لفظ ٹيروريزم اور ٹيروريسٹ جديد الفاظ ہیں۔ بعد میں اس لفظ كا معنی وسيع ہو گيا اور لغت كی كتابوں میں نظام وحشت اور ٹرور سے تعريف كيا گيا ہے اور ٹيروريسٹ وہ شخص تھا جو عسكری اور مالی امداد سے خوف و ہراس پھيلا كر اپنے نظريات كو پھيلانا چاہتا تھا ۔
مقدس دہشتگردی: اپنے مذہبی مقاصد كی حمايت كے لیے دہشتگردی كے اقدام كرنا ان چند سالوں میںايك غير متوقع واقعات ہیں اور دينی تعليمات میں اسے مقدس يا مذہبی دہشتگردی كا عنوان دے كر اسے مقدس خيال كيا گيا ہے۔ ہندوستان میں سيكھ دہشتگرد كئی سالوں سے ايك مستقل حكومت كو ايجاد كرنے كے درپے ہیں۔
اسرائيل میں متعصب یہوديوں نے معبد حضرت سليمان ﴿ع﴾ كا بہانہ بنا كر اپنی سرگرميوں كا آغاز كيا اور یہ فقط ايك سازش تھی تاكہ مسلمانوں كے مقدس مقامات كو منہدم كيا جا سكے اور اس نقشے كو بنانے والوں كو اميد تھی كہ وہ اس كے بعد ايك تيسرا معبد تعمير كریں گے اور ان كے عقيدہ كے مطابق یہ چيز بنی اسرائيل كے منجی ﴿نجات دينے والے﴾ كے ظہور میں تعجبل كا باعث ہے۔
اسلام میں دہشتگردی كی تاريخ: اسلام میں دہشتگردی كا آغاز رسول خدا ﴿ص﴾ كی ہجرت سے ہوا كہ جب مشركين قريش نے آنحضرت كو قتل كرنے كے لیے ايك میٹينگ كی ليكن خداوند كريم كے لطف و كرم سے اور حضرت علی ﴿ع﴾ كے بسترپر سونے سے یہ سازش ناكام ہو گئی۔ قابل ذكر بات یہ ہے كہ اديان بنيادی طور پر دہشتگردی كے خلاف ہیں اور یہ جو مقدس دہشتگردی كے عنوان سے قابل مشاہدہ ہے یہ اصل دين سے انحراف كا نتيجہ ہے جس كےتاريخ اسلام میں بہت سارے نمونے موجود ہیں۔ خوارج نے پيغمبر اكرم﴿ص﴾ كی رحلت كے كچھ سال بعد اميرالمومنين ﴿ع﴾ كو دہشتگردی كا نشانہ بنايا۔ عثمان بن عفان كے قتل كے واقع میں سب سے زيادہ جس شخصيت نے اس كا مقابلہ كيا وہ علی بن ابيطالب ﴿ع﴾ اور ان كی اولاد ہیں۔
ليكن بعد كے زمانے میں اسلامی تعليمات سے انحراف كی وجہ سے اسلامی گروپوں نے دہشتگردی شروع كی كہ جس كا واضح نمونہ فرقہ اسماعيلیہ نزاری تھے جو باطنی اور حشاشی كے نام سے مشہور تھے۔ اس گروہ نے اپنے سياسی مقاصد حاصل كرنے كی خاطر مخالفين كو قتل كرنا شروع كيا۔ اس جديد دور میں القاعدہ ايك خوفناك تنظيم ہے جس نے اس جديد دنيا میں وحشت و بربريت كے سائے ڈالے ہوئے ہیں۔ اس متعصب گروہ نے اہم مراكز پر حملے اور ہزاروں بے گناہ انسانوں كا قتل عام كر كے وحشت اور خوف پھيلايا ہوا ہے۔ یہوديوں اور عيسائيوں كے منحرف گروہ اپنے بے جا اور ناجائز مقاصد كےحصول كے لیے كسی قسم كے غيرانسانی اقدام سے دريغ نہیں كرتے۔ فلسطين میں وسيع پيمانے پر قتل عام بھی انھیں یہوديوں كی كارستانياں ہیں اگرچہ اس قتل عام پر بين الاقوامی ادارے خاموش تماشائی كا كردار ادا كر رہے ہیں ليكن یہ ايك مسلمہ حقيقت ہے یہ واقعات ، انسانوں كے افكار اور وجدان سےمحو نہیں ہوں گے۔ بے گناہ انسانوں كا قتل ھر صورت میں مذموم ہے۔
اسلامی جمہوریہ میں دہشتگردی كے واقعات:
ايران كے انقلاب اسلامی كے آغاز سے ہی بہت سی استعماری طاقتوں نے اسے اپنے غيض و غضب كا نشانہ بنايا اور اسی دوران ايك منظم اور منسجم ترين دہشتگرد گروپ ﴿ كہ جس نے اسلامی جمہوریہ ايران میںبہت سے عہدہ داروں اور لوگوں كو قتل كيا﴾ سازمان مجاہدين خلق تھا كہ جسے بعد میں منافقين كے نام سے پہچانا جانے لگا۔یہ گروہ اگرچہ انقلاب اسلامی كی كاميابی كی ابتداء ہی سے قائد انقلاب كے ہم فكر نہیں تھا اور ان كے مقابلے كے درپے تھا اور بعد میں اس نے اپنی مسلح جدو جہد كا آغاز كر ديا۔ اس كے بعد اس گروہ نے دہشتگردی كے مختلف واقعات انجام دے كر بے گناہ لوگوں كا خون بہايا اور اس كےعلاوہ اس مختلف قوموں اور مذہبوں پر مشتمل ملك میں ، تفرقہ اور اختلافات ايجاد كرنے شروع كر دیے ہیں۔
دہشتگردی كے مقابلے میں قرآن و اسلام كا موقف:
شريعت اسلامی مشرق وسطی كی ايك طاقتور قدرت ہے اور اس وقت دنيا كی آبادی كا ۲۰ فيصد مسلمان ہیں سب سے اہم بات یہ ہے كہ اسلام نے اس دہشتگردی كے مقابلے میں اپنا واضح موقف پيش كيا ہے۔ بنابراين اسلام اور مسلمانوں كی نسبت شديد قسم كی حساسيت كے پيش نظر ، دہشتگردی كے بارے میں اسلام اور مسلمان دانشواروں كی آراء سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ قرآن ، مسلمانوں كی مقدس كتاب ہے جو حضرت محمد ﴿ص﴾ پر نازل ہوئی اور اس قرآن كو حضرت محمد ﴿ص﴾ نے امت تك پہنچايا ہے۔ بنا براين اسلام كا حقيقی نظریہ ايك معروف اور مشخص روش يعنی سنت كے ذريعے استباط كيا جاتا ہے۔ سنت كا لغوی معنی روش ہے۔ حضرت محمد ﴿ص﴾ كے اقوال اور افعال كو سنت كہا جاتا ہے۔ اسلام كے پہلے حقيقی منبع قرآن نے دہشتگردی كی شديد مذمت كی ہے " جس نے ايك انسان كو قتل كيا گويا كہ اس نے تمام انسانوں كو قتل كيا اور جس نے ايك انسان كو موت سے نجات دی گويا كہ اس نے تمام انسانوں كو نجات دی۔ انسانی حيات پر قرآن كی خصوصی توجہ ، قرآنی تعليمات كا اہم نكتہ ہے اور قرآن كريم میں خود كشی كی بہت مذمت كی گئی ہے اور انسانوں كو سختی سے منع كيا گيا ہے اور آج كل جو خود كش حملے كے عنوان سے مشہور ہے اور اس كی نسبت اسلام كی طرف دی جاتی ہے ، اسلام میں اس كا كوئی مقام نہیں ہے۔ جو لوگ ايسے اقدامات كرتے ہیں سب سے پہلےیہ ديكھنا چاہیے كہ ان كا اس عمل سے كيا مقصد ہے؟ دوسرا یہ كہ اس قسم كے اقدام كرنے والوں كا كيا آخری چارہ كار یہی تھا؟ كيونكہ كوئی انسان بھی اپنی زندگی كو بہت كم معاوضے پر قربان نہیں كرنا۔
مغرب كا یہ تصور كہ اسلام مشرق وسطی میں دہشتگردی اور شدت كی ترويج كر رہا ہے یہ بالكل غلط ہے شريعت اسلام تو اس كی بالكل نصيحت نہیں كرتی۔ جہاد كبھی بھی جنگ كرنے كے معنی میں نہیں ہے بلكہ اس كا صحيح ترجمہ كوشش اور جدوجہد ہے جہاد ، دشمنوں سے مقابلے كے لیے ايك اجتماعی فريضہ ہے، جہاد يعنی اسلام كی حفاظت كے لیے اپنے آپ كو پابند كرنا۔ قابل ذكر ہے شريعت اسلامی مسلح جنگ كی دعوت نہیں ديتی بلكہ جہاد سے بہترين مطلب یہ سمجھا جا سكتا ہے كہ یہ ايك قسم كی جنگی حالت ہے جيسا كہ امام خمينی ﴿رح﴾ نے تاكيد كی تھی كہ اسلام كی حفاظت كے لیے عملی جنگ كی ضرورت نہیں بلكہ ہمیں تبليغات كے ذريعے كوشش كرنی چاہیے۔ حضرت محمد ﴿ص﴾ " دارالسلام" میں آنے والے غير ملكی سفراء كی مہمان نوازی كرتے انھیں تحائف ديتے تھے۔ غير ملكی نمائندوں كی فقط جسمانی حفاظت نہیں بلكہ ان كی عبادی آزادی كا بھی قائل ہونا چاہیے۔ بنا براين نتيجہ یہ نكلا كہ اس دور میں كسی بھی دہشتگرد كو كسی دوسرے ملك كے نمائندے كے حقوق سے تجاوز كرنے كا حق حاصل نہیں ہے اور ڈبلومیٹ افراد كا احترام كرنا ايك مقدس امر ہے۔ شريعت اسلام نے يرغمال بنانے كے لیے قوانين بنائے ہیں، افراد كو قيد كر كے انھیں جنگ كے دوران جيلوں میں بند كيا جا سكتا ہے ليكن انھیں يرغمال ہونے والے مسلمانوں كے مقابلے میں آزاد كرنا ہو گا۔ بنا براين اس دور میں جو دہشتگرد گروپوں كی طرف سے يرغمال بنانے والے لوگوں كو اسلام كے نام پر قتل كر ديا جاتا ہے ۔ اسلام میں اس كی كوئی اجازت نہیں ہے بلكہ یہ ان افراد كی اپنی رائے ہے جو اپنے شخصی منافع يا دوسرے مقاصد كی خاطر ايسے اقدامات كرتے ہیں۔ جيسا كہ خداوند عالم فرماتا ہے۔" وما ارسلناك الا رحمة للعالمين" بنا براين اسلام مخالف عناصر كے بالعكس، اسلام نہ فقط دہشتگردی اور شدت پسندی كا دين نہیں بلكہ اسلام دين صلح ، رحمت و عدل ہے۔
284946