ايرانی صدر: غاصب اور جھوٹی صیہونی حكومت كی وجہ سے علاقہ میں امن و امان قائم نہیں ہو سكتا

IQNA

ايرانی صدر: غاصب اور جھوٹی صیہونی حكومت كی وجہ سے علاقہ میں امن و امان قائم نہیں ہو سكتا

سياسی گروپ: ايرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے ايك بيان میں كہا كہ غاصب صیہونی حكومت كی موجودگی میں علاقے میں امن و امان قائم نہیں ہو سكتا انہوں نے مزيد كہا ہے كہ صیہونيوں كا یہ نعرہ تھا كہ ہماری سرزمين دريائے فرات تك ہے يعنی پورا مشرق وسطی۔

بين الاقوامی قرآنی خبررسان ايجنسی " ايكنا" نے صدارتی سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ محمود احمدی نژاد نے روزنامہ لس آنجلس ٹائمز كے ایڈیٹروں اور سربراہوں سے گفتگوكے دوران پوچھےگئے سوال كہ آپ نے كہا ہے كہ اسرائيل كو نابود ہو جانا چاہیے اور اس بات كے پيش نظر كہ ايران ، علاقہ كی ايك طاقت ہے ، كيا یہ فقط بات ہے يا یہ كہ آپ اس بارے میں كوئی اقدام كرنا چاہتے ہیں كہا كہ مجھے اجازت دیں میں آپ كی گفتگو كو دوحصوں میں تقسيم كرتا ہوں ايك ايران كے عمل كے بارے میں اور دوسرا صیہونيسٹوں كے بارے میں۔
انھوں نے كہا كہ ايران نےفلسطين كے موضوع پر ايك شفاف اور واضح تجويز پيش كی ہے كہ فلسطين كے لوگوں كی شركت سے ايك آزاد ريفرنڈم منعقد كيا جائے اور ہمارا عمل اس لحاظ سے ہے اور ہم عنقريب جنرل سيكرٹری كو ايك تجويز اس بارے میں دیں گے۔ صدر نے واضح كہا كہ ہمارا عقيدہ ہے كہ دوسروں كی مداخلت كے بغير ہرملت اپنی تقدير كا فيصلہ خود كرے اور یہ چيز اقوام متحدہ كےنصب العين اور قانون كے مطابق ہے اور ہر انسان اور ملت كے ابتدائی حقوق میں سے یہ ايك حق ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ صیہونيوں كا یہ نعرہ تھا كہ ہماری سرزمين نيل سے فرات تك ہے ۔ یہ كون ہوتے ہیں ، كہاں سےآئے ہیں كہ ايسی بات كریں، حتی اگر ہم اس بات كو قبول بھی كر لیں كہ دوسری عالمی جنگ میں كچھ واقعات رونمائے ہوئے ہیں تو یہ واقعات كس جگہ رونما ہوئے؟ بعض يورپی ممالك میں ، اب اس مسئلہ كا فلسطين سے كيا واسطہ ہے كہ ملت فلسطين اس كا تاوان ادا كرے اور بے گھر ہو جائے۔
احمدی نژاد نے فلسطين كےعوام كی مشكلات اور ان كےگھروں كا گھيراو كرنے والوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ یہ بہت دور سے آئے ہیں اور یہ كن لوگوں كے نفع میں كام كر رہے ہیں؟ انھوں نے لبنان پركيوں حملہ كيا اور جولان كی پہاڑيوں پر قابض ہیں اور ايران كو دھمكياں دے رہے ہیں۔ اس جھوٹی حكومت كی جڑیں كہاں ہیں؟ انھوں نے صحافيوں سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ میں آپ سےسوال كرتا ہوں كہ اس وقت سوويت يونين كہاں ہے؟ كيا وہ دنيا كےنقشےسے حذف نہیں ہو گئی ۔ ايرانی صدر سےپوچھے گئے سوال كہ جارج بش كی صدارت كے ايام ختم ہونے والے ہیں كيا آپ كا دل اداس نہیں ہو گا؟ تو انھوں نے كہا كہ ہمارا دل سب كے لیے كڑھتا ہےليكن جب كوئی براكام انجام دے تو ہم غمگين ہو جاتے ہیں۔ بش نے امريكی عوام كی خدمت كرنے كے مواقع كو ضائع كرديا ہے دوسری ملتوں كے خلاف كام كر رہا ہے جبكہ وہ ان مواقع سےاستفادہ كرتے ہوئے اپنے عوام كی فلاح و بہبود كےلیےكام كر سكتا تھا۔
انھوں نے بش كے اقدامات كی شديد مخالفت كرتے ہوئے كہا كہ وہ ان آٹھ سالوں میں اس سے بہتر كام كر سكتا تھا، اس نے عراق و افغانستان میںجنگ كا آغاز كرتے ہوئے ہزاروں بے گناہ افراد كا خون بہايا ہے كيونكہ وہ علاقہ اور مشرق وسطی پر قابض ہونا چاہتا تھا كيا یہ امريكی عوام كے فائدے میں ہے؟ ايرانی صدر نے جولان كی پہاڑيوں كے بارے میں سوریہ اور اسرائيل كے مابين گفتگو كے بارے میں پوچھے گئے سوال كے متعلق كہا كہ سوریہ كےساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے اور مستحكم ہیں اور ہم صہيونيوں كےقبضےسے سرزمين كی آزادی پر خوش ہیں البتہ جولان كی آزادی پر صیہونی حكومت اتنی جلدی راضی نہیں ہو گی اور مجھے بہت بعيد لگتا ہے كہ یہ مسئلہ گفتگو كے ذريعے حل ہو سكے۔ انھوں نےكہا كہ اس وقت صیہونی حكومت كے حالات ہر دور سے دشوارتر ہیں اور وہ كسی چيز پر اثر انداز نہیں ہو سكتی۔ اور صیہونی حكومت كی مثال ايسے ہوائی جہاز كی سی ہے كہ جس كے انجن فيل ہو چكے ہوں اوركوئی اسكی مدد نہیں كر سكتا ھو۔
احمد نژاد نے مزيد كہا كہ یہ تمام ملتوں بالخصوص امريكی عوام كے فائدے میں ہے كيونكہ غاصب حكومت امريكی عوام كے نام سے ظلم وستم ڈہا رہی ہے اور اس ملك كے عوام كا كروڑوں كا سرمایہ، صیہونی حكومت كی حمايت كےلیے خرچ ہو رہا ہے جبكہ اگر یہ سرمایہ امريكی عوام كے لیے خرچ ہوتا تو یہ كسی قسم كی مادی مشكلات كا شكار نہ ہوتے۔ ايرانی صدر نے عراق كے امن و امان كے بارے می پوچھے گئے سوال كے بارے میں كہا كہ عراق كا امن وامان براہ راست ايران كے امن وامان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عراق و ايران كے تعلقات دوستانہ ہیں اور عوام ايك دوسرے كے ممالك میں آتے جاتے ہیں۔ لس آنجلس ٹائمز كے نامہ نگار نے آخر میں احمدی نژاد سے كہا كہ بش كہتا ہے كہ عراق میں موجودہ امن و امان امريكی افواج میں اضافہ كی وجہ سے ہے تو ايرانی صدر نے كہا كہ بش كئی باتیں كرتا ہے۔
298487