عزاداری كی تعليم دينے پر ايك برطانوی شہری كو جيل بھيج ديا گيا

IQNA

عزاداری كی تعليم دينے پر ايك برطانوی شہری كو جيل بھيج ديا گيا

اعزازی نامہ نگار/جلال بيطرفان: برطانیہ كی ايك عدالت نے ايك عرب شيعہ مذہب شخص كو اولاد كو عزاداری كی تعليم دينے كے جرم میں جيل بھيج ديا ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے اعزازی نامہ نگار كی رپورٹ كے مطابق برطانیہ كے شمال میں شہر مانچسٹر كی ايك عدالت نے چند دن پہلے " علی سيد مصطفی زيدی" كو اپنی اولاد كو عزاداری كی تعليم دينے كے جرم میں ۲۶ ہفتے كے لیےجيل بھيج ديا ہے۔ اس عدالت نے عزاداری كےلفظ كی بجائے " بدن پر كوڑے لگانے" كا لفظ استعمال كرتے ہوئے كہا كہ یہ شخص اپنے ۱۳ اور ۱۵ سالہ دوبیٹوں كے ساتھ وحشيانہ سلوك كرتا ہے۔ اس عدالت كےجج " رابرت آثرتون" نے " علی زيدی" كے اس سلوك كو ظلم قرار ديتے ہوئے دعوی كيا كہ اس شخص نے عاشور كے دن اپنے بچوں كو زنجير كے ذريعہ آزار و اذيت كرنے كی كوشش كی ہے۔ آثرتون نےمزيد كہا كہ یہ حكم دينی اور مذہبی اعمال كے خلاف نہیں ہے۔ بلكہ خود اس كام كے خلاف ہے۔
302545