بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے اعزازی نامہ نگار نے خيمہ سائیٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اس مسجد كے نماز جمعہ كےپروگرام میں انقرہ كے بہت سے لوگوں ، سياسی شخصيات منجملہ ، تركی كے مذہبی ادارے كے معاون" محمد گورمز" اور تركی كے وزير دفاع " وحدی گونول" نے شركت كی۔ تركی وزير دفاع نے اس مسجد كے افتتاح كے بارے میں كہا كہ ہمارا عقيدہ كہ ان تينوں اديان كی بنياد ايك ہے اور آسمانی اديان كے درميان وحدت پائی جاتی ہے اور ان تين عبادت گاہوں كے ايك جگہ واقع ہونے پر كوئی ممانعت نہیں ہے۔ قابل ذكر ہے۔ كہ " احسان دوغماجی" نے اپنے دادا كی ياد میں یہ مسجد بنائی تھی اور اس مسجد كے ۱۲۰ میٹر كی جگہ كو عيسائيوں اور یہوديوں كی عبادت گاہ كے لیے مخصوص كيا گيا ہے۔ اور اس كام سے تركی كی دينی محافل میں بہت زيادہ رد عمل ديكھنے میں آيا ہے۔
302548