قرآن كريم كی نظر میں عبرت حاصل كرنے كا مقام

IQNA

قرآن كريم كی نظر میں عبرت حاصل كرنے كا مقام

فكرونظر گروپ: قرآن كريم میں عبرت كے بارے مين متعدد آيات ذكر ہوئی ہیں جو اس موضوع كی اہميت كو بيان كرتی ہیں اسی بنا پر درج ذيل تحرير میں اس بارے میں چند نكات كی طرف اشارہ كيا جاتا ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ شمالی مغربی علاقہ كی رپورٹ كے مطابق عربی زبان میں عبرت كے لفظ كا فارسی زبان میں معنی پند اور اردو زبان میں نصيحت پكڑنا ہے كہ اگر عبرت كا عام معنی مرادلیں تو معلوم ہوتا ہے كہ تمام آيات الہی عبرت اور نصيحتیں ہیں۔ قرآن كريم نے ، احكام، عقائد اور اخلاق جيسے مسائل كے علاوہ ايسے مسائل كو بيان كيا ہے جن میں اشارہ يا واضح طور پر عبرت و نصيحت پوشيدہ ہے۔ " احمد سياح" كی كتاب " فرہنگ بزرگ جامع توين" میں "عبر" كے لفظ میں اس طرح بيان ہوا ہے كہ قرآن كريم نے متعدد آيات میں زندگی كے مختلف واقعات سے عبرت حاصل كرنے كی ضرورت پر زور ديا ہے اور عبرت حاصل كرنے كی اہميت كے لیے اتنا ہی كافی ہے كہ خدا وند متعال نے تمام مومنين كو زندگی كے واقعات سے عبرت حاصل كرنے كی تاكيد فرمائی ہے۔ سورہ مباركہ انعام كی آيت ۱۱ " قل سيروافی الارض ثم انظرواكيف كان عاقبة المكذبين" آپ ان سے كہہ ديجئے كہ زمين میں سير كریں پھر اس كےبعد ديكھیں كے جھٹلانے والوں كا انجام كيا ہوتا ہے۔ قرآن كريم نھ مختلف آيات میںبعض اوقات حكم كی صورت میں انسان كو زمين میں سير كرنے كی دعوت دی ہے جيسا كہ خداوند متعال سورہ مباركہ آل عمران كی آيت نمبر ۳۰ میں فرماتا ہے۔ " سيروا فی الارض فانظرواكيف كان عاقبة الذين من قبل كان اكثر ہم مشركين" زمين میں سير كرو اور پھر سابقہ لوگوں كی عاقبت كو ديكھو جو اكثر مشرك تھے۔ ايك اور آيت میں فرماتا ہے۔ " أفلم يسيروا فی الارض فتكون لھم قلوب يعقلون بھا أو آذان يسمعون بھا فانھا لاتعمی الابصار ولكن تعمی القلوب التی فی الصدور" قرآن كريم سے دس سے زائد آيات میں لوگوں كو سفر و سيرو سياحت كرنے كی رغبت دلائی ہے۔ قرآنی ثقافت میں، سير سے مراد بیہودہ سيروسياحت نہیں ہے بلكہ عبرت حاصل كرنے اور خداوندتعالی كی قدرت اور اس كی آيات كا مشاہدہ كرنا ہے۔ قرآن كريم میں گزشتہ لوگوں كے واقعات كو نقل كرنے كا ايك مقصد مسلمان میں عبرت ايجاد كرنا ہے۔ اور قرآن كی بہت سی آيات الہی میں عظيم انبياء كی دستانوں كو بيان كيا گيا ہے یہ داستانیں فقط قصہ بيان نہیں ہے بلكہ ان داستانوں سے سبق حاصل كرنا مراد ہے۔ ان داستانوں میں مقدس اہداف كو بيان كيا گيا ہے۔ جيسے دلوں كا بيدار ہونا، گزشتہ لوگوں كی آخرت كو سمجھنا جو قوت، قدرت اور ثروت كےلحاظ سے برتر تھے۔ گناہگاروں اور جھوٹے لوگوں كی آخرت كو سمجھنا، خلقت كی عظمت كو سمجھنا۔ لہذا قرآن كريم نے لوگوں كو عبرت حاصل كرنے كے لیے زمیں میں سير كرنے اور گزشتہ لوگوں كے قصوں میں غوروفكر كرنے كی دعوت دی ہے۔
293219