آيت اللہ سبحانی: جنت البقيع میں معصومين ﴿ع﴾ كے روضوں كے انہدام كا دن ، دوسرا روز عاشورہ ہے

IQNA

آيت اللہ سبحانی: جنت البقيع میں معصومين ﴿ع﴾ كے روضوں كے انہدام كا دن ، دوسرا روز عاشورہ ہے

سياسی گروپ: جنت البقيع میں ائمہ معصومين﴿ع﴾ اور اہل بيت نبوت كے روضوں كے انہدام كا دن ، دوسرا روز عاشور ہے اور دنيا كے مسلمانوں بالخصوص شيعوں كو چاہیے كہ نفرت كا اظہار كر كے دنيا والوں كو ان مظالم كرنے والوں سے آگاہ كریں ۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' نے آيت اللہ جعفری سبحانی كے دفتر سے نقل كيا ہے كہ آيت اللہ سبحانی نے ۸ شوال كو جنت البقيع میں اہل بيت ﴿ع﴾ كے روضوں كے انہدام كے دن كی مناسبت سے ايك پيغام ديا ہے۔
آيت اللہ سبحانی كے پيغام كا متن كچھ اس طرح ہے۔
جنت البقيع میں ائمہ معصومين ﴿ع﴾ اور اہل بيت نبوت كے مبارك روضوں كے انہدام كا دن ، دوسراروز عاشورہ ہے اور دنيا كے مسلمانوں بالخصوص شيعوں كو چاہیے كہ وہ نفرت اور بيزاری كا اظہار كرتے ہوئے دنيا والوں كو ان ظلم وستم كرنے والوں سے آگاہ كریں۔ پچاسی سال پہلے جہالت و گمراہی كے لشكر نے اس دن جنت البقيع میں چار ائمہ معصومين ﴿ع﴾ كے روضوں پر حملہ كر كے انھیں مسمار كر ديا اور ايك مرتبہ پھر متوكل عباسی كے اس برے اور قبيح فعل كا تكرار كيا جو اس نے امام حسين ﴿ع﴾ كے روضہ مبارك كو منہدم كر كے وہاں پر كاشت شروع كی تھی۔ " يريدون "ليطفئوا نوراللہ واللہ متم نورہ و لو كرہ الكافرون"
قرآن مجيد دنيا كے مسلمانوں كو ايسے گھروں اور جگہوں كے احترام كا حكم ديتا ہے جہاں پر خداوند متعال كی حمد اور تسبيح كی جاتی ہے اور فرماتا ہے: "فی بيوت اذن اللہ ان ترفع"
جلال الدين سيوطی اپنی كتاب " در منثور" میںلكھتا ہے كہ پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ نے مسجد میں اس آيت كی تلاوت فرمائی ، ايك مرد نے پوچھا كہ "بيوت" سے كيا مراد ہے ؟ پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ نے فرمايا: انبياء كے گھر اس وقت ابوبكر نے حضرت زہرا﴿ع﴾ كے گھر كی طرف اشارہ كرتے ہوئے پوچھا كہ كيا یہ گھر بھی انھیں گھروں میں سے ہے؟ آنحضرت ﴿ص﴾ نے فرمايا: " نعم من افاضلھا" يعنی ہاں ان سے اعلی ترين اور بافضيلت ترين گھر ہے۔عسكرين ﴿ع﴾ كے روضہ مبارك بھی انھیں افراد كے ہاتھوں منہدم ہوا ہے یہ وہ مقام اور جگہیں ہیں جہاں پر ائمہ اور ان كی والدہ ، خدا كی عبادت اور حمد وثنا كيا كرتے تھے۔ اس كی تعمير اور مرمت كی بجائے اسے منہدم كر ديا ہے۔ دنيا كےعقلمندوں حتی كہ سابقہ شريعتوں كے پيروكاروں كا یہ وطيرہ تھا كہ وہ انبياء اور بزرگان كی قبروں كا احترام كرتے اور ان كی قبروں پر عمارت بنا كر ان كا احترام كيا كرتے تھے۔ اردن ، سوریہ، مصر اور عراق میں انبياء اور احباء كی قبریں اور فلسطين مين خليل الرحمن كی قبر بھی اس بات كی گواہ ہے افسوس سےكہنا پڑھتا ہے كہ نجد كےرہنے والے اعراب نے اسلامی ثقافت سے دور ہونے كی وجہ سے اور آيت شريفہ " قل لا اسالكم علیہ اجرا الا المودة فی ا لقربی" پر عمل كرنے كی بجائے اس سے دشمنی كر كےخاندان رسالت اور دوسرے بزرگان د ين سے وابستہ آثار كو منہدم كر ديا ہے۔ كوئی دن ايسا نہیں ہے كہ حرمين شريفين میں اسلامی آثار كو وسعت دينے كے بہانہ سے تبا ہ كر رہے ہیں اور عنقريب مكہ مكرمہ اور مدينہ منورہ كے شہروں كو يورپی اسٹائل كے شہروں میں تبديل كر دیں گے۔ دنيا كے مسلمان نجد و حجاز كےحكمرانوں سے تقاضا كرتے ہیں كہ وہ حريت اور آزادی كو پامال نہ كریں اور آرام و سكون سے اہل بيت ﴿ع﴾ كے چاہنے والوں كو ان كی قبروں كی تعمير كرنے كی اجازت دیں اور تمام اسلامی گروپوں كو حج و عمرہ كےموسم میں اپنے فرائض انجام دينے كی آزادی دیں تاكہ حرم الہی سب كےلیے " حرم امن" ہو۔
303202