جنت البقيع كی حالت زار، دشمنی اہلبيت ﴿ع﴾ كا منہ بولتا ثبوت ہے

IQNA

جنت البقيع كی حالت زار، دشمنی اہلبيت ﴿ع﴾ كا منہ بولتا ثبوت ہے

اعزازی نامہ نگار/جمشيد غضنفری: بقيع مدينہ میں اس سرزمين كا نام ہےجسےرسول خدا ﴿ص﴾ كے حكم سے مسلمانوں كےقبرستان میں تبديل كر ديا گيا تھا۔ اور رسول خدا ﴿ص﴾ كی نصيحت كےمطابق جسےسب سے پہلےوہاں پر دفن كيا گيا تھا وہ پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ اور اميرالمومنين حضرت علی ﴿ع﴾ كےباوفا صحابی ، عثمان بن مطعون" تھے ۔
یہ وہ شخصيت تھی جسےحضرت علی ﴿ع﴾ ہميشہ ياد كيا كرتے تھے۔ اور ان سے محبت كی وجہ سے آپ ﴿ع﴾ نےاپنے ايك بیٹے كا نام عثمان ركھا تھا۔ بقيع ايك ايسا قبرستان ہے جس كا تمام مسلمان احترام كرتےہیں اور یہ حرم پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔ رسول اكرم ﴿ص﴾نے احد كے بعض شہداء اور اپنے بیٹے " ابراہيم " كو وہاں پر دفن كيا تھا اور اس بنا پر اس كی عظمت میں مزيداضافہ ہو گيا۔ بعد میں عثمان بن عفان كو مدينہ كے یہوديوں كے " حس كوكب" نامی قبرستان میں دفن كيا گيا ليكن معاویہ نے بقيع كو اتنی وسعت دی كہ عثمان كی قبر بھی بقيع میں شامل ہو گئی۔ اس وقت بقيع میں شيعوں كےچار امام حسن مجتبی﴿ع﴾ ، امام سجاد ﴿ع﴾ ، امام باقر ﴿ع﴾، اور امام صادق ﴿ع﴾ دفن ہیں اسی طرح پيغمبر اكرم ﴿ص۹ كی اكثر زوجات، پيغمبر كے چچا عباس اور امام علی ﴿ع﴾ كی والدہ گرامی حضرت فاطمہ بنت اسد بھی اسی مقدس مكان میں دفن ہیں۔ ليكن وہابيوں نے اس جنت البقيع كی قبروں كو مسمار كر ديا ہے اور اب ہم اس تحرير میں وہابيوں كا مختصر تاريخچہ اور ان كےمظالم كو بيان كرتے ہیں تحريك وہابيت كا سربراہ " محمد بن عبدالوھاب نجدی" تھا اس تحريك وہابيت كے مخالفين اس سوچ كے حامل افراد كو
وہابی كے نام سے ياد كرتے ہیں جبكہ وہ خود اپنے آپ كو' الموحدون" اور اپنے مذہب كو " محمد یہ " كا نام ديتے ہیں یہ گروہ اپنے آپ كو سنی فرقہ اور " احمد بن حنبل" كےمذہب كا پيروكار جانتا ہے۔
عقائد:
۱۔ خداوندمتعال كے علاوہ جس كی عبادت كی جائے وہ خطا ہے اور جو بھی ان كی عبادت كرے وہ موت كاحقدار ہے۔
۲۔ مسلمانوں كےبہت سےفرقے موحد نہیں ہیں كيونكہ ان كی كوشش ہے كہ وہ خدا وند تعالی كی عنايات كو اولياء كی قبور كی زيارت سے حاصل كریں ۔ لہذا یہ لوگ مشرك ہیں۔
۳۔ نماز میں پيغمبر اكرم ، ولی يا فرشتے كا نام لينا شرك ہے۔
۴۔ خدا كے علاوہ اگر كوئی كسی سے شفاعت طلب كرئے وہ كافر ہے۔
۵۔ اپنی حاجات كو پورا كرنےكےلیے جو بھی خدا كے علاوہ كسی سے مدد طلب كرے وہ كافر ہے۔
۶۔ ايسا علم جو قرآن مجيد ، سنت پيغمبر اور عقل كے ضروری استنباط پر مبتنی نہ ہو وہ كفر ہے۔
۷۔ تمام كاموں ﴿انسانوں كو اپنے كاموں كی انجام دہی پر قدرت ركھنا ﴾ میں قدر كا انكار كرنا الحاد اور بدعت كے معنی میں ہے۔
۸۔ تاويل كی بنياد پر قرآن كی تفسير كرنا كفر ہے۔
وہابی، قبور پر گنبد ، ضريح اور بقعہ بنانے كو حرام اور اسےمنہدم كرنا واجب سمجھتے ہیں كہ وہ اس مسئلہ میں اپنے قائد " ابن تيمبہ": اور اس كے شاگرد" ابن جوزیہ" كےتابع ہیں اسی بنا پر انھوں نے ان آخری چند صديوں میں جہاں تك ان كے لیے ممكن تھا زيارت گاہوں كو ويران كيا ہے حتی كہ ائمہ بقيع كی قبروں اور امام حسن ﴿ع﴾ كی قبر كو بھی معاف نہ كيا۔ وہ قبور پر روضے بنانے كو ايك قسم كا شرك اور كفر خيال كرتے ہیں اور اس عقيدہ كے اثبات كےلیے ان كےپاس فقط دھمكی اور شدت پسندی ہےاور انھوں نےہميشہ عراق اور شام میںموجود ائمہ اطہار كےروضوں كو منہدم كرنےكےلیے بہت زيادہ كو ششیں كی ہیں۔ وہابی تمام مسلمانوں بالخصوص شيعوں كے بارے میں بہت زيادہ كينہ و بغض ركھتے ہیں۔ اور كہا جا سكتا ہے كہ بقيع اور رسول خدا ﴿ص﴾ كی ذريت پاك ،اہل بيت پيغمبر ﴿ص﴾ اور ان كے بہترين صحابہ كی قبروں كا انہدام پوری تاريخ میں سعودی وہابيوں كے نا قابل معاف مظالم میں سےايك ہےجنھوں نے تمام مسلمانوں اور بالخصوص شيعوں كےقلوب كو زخمی كيا ہے۔
پہلی مرتبہ ائمہ بقيع كی قبور كا انہدام:
ائمہ بقيع كی مطہر قبور كو سعودی عرب كے وہابيوں نے پہلی مرتبہ ۱۲۲۰ھ كو يعنی عثمانی حكومت كےہاتھوں پہلی سعودی حكومت كے گرنے كے وقت منہدم كيا تھا۔ اس تاريخی واقعے كے بعد شيعہ مسلمانوں نے اپنے خصوصی وسائل سے استفادہ كرتے ہوئے ان منہدم ہونے والی قبروں كی مرمت كر كےان پر گنبد اور مسجد تعمير كی اور اس وقت بقيع ايك خوبصورت ترين زيارت گاہ بن گئی تھی۔ ايك برطانوی سياح نے مدينہ میں اس زيارت گاہ كی توصيف میں كہا تھا كہ ۱۳۸۷ھ سے ۱۳۸۸ھ تك مدينہ، استنبول اور دنيا كے خوبصورت سياحی شہروں كے مشابہ ہو گيا تھا۔
دوسری مرتبہ ائمہ بقيع كی قبور كا انہدام:
تاريخ كا دوسرا اور دردناك ترين حادثہ آٹھ شوال ۱۳۴۴ھ ق كوپيش آيا كہ جب سعودی عرب میں وہابيوں كی تيسری حكومت بر سر اقتدار آئی تو وہابيوں نے اپنے من گھڑت اور جعلی فتووں كی بنا پر شيعوں كے مقدس مقامات پر وحشيانہ حملہ كر كے انھیں منہدم كر ديا اور بقيع كو ايك ويران جگہ میں تبديل كر ديا۔ ايك يورپی سياح " ايلدون رتر" اس بارے میں كہتا ہے كہ ائمہ بقيع كی قبروں كو دوسری مرتبہ منہدم كرنے كی وجہ سے ائمہ ﴿ع) كے مطہر روضوں كو ويران كر ديا گيا اوروہابيوں نے بقيع كے گنبدوں اور شكل و صورت كو بالكل ويران كر ديا۔ تاريخی شواہد كی بنا پر وہابيوں نے فقط بقيع كی قبور كو منہدم كرنے پر اكتفانہ كيا بلكہ بار ہا مرتبہ پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ كے روضہ مبارك كو بھی منہدم كرنے كی كوشش كی ہے جس كی وجہ سے دنيا كے مسلمانوں میں شديد رد عمل سامنے آيا تھا۔ لہذا وہ اس اسلام مخالف سازشوں سے باز رہے۔ سوئٹرز لينڈ كے ايك سياح " لوسیں پور خارت" جنھوں نے اسلام قبول كرنے كے بعد اپنے آپ كو ابراہيم كےنام سے موسوم كيا وہ اس بارے میں كہتے ہیں كہ بقيع میں دفن ائمہ كے اور صحابہ كےمقام كے پيش نظر یہ جگہ بہت تنگ ہے اور دوسرے ممالك بالخصوص سعودی عرب كے دوسرے زيارتی مقامات سے بہت چھوٹی ہے۔ انہدام سے پہلے قبرستان بقيع میں چار ائمہ اطہار اور حضرت فاطمہ زہرا﴿س﴾ كی مطہر قبر كے مقبرے تھے اگرچہ روايت میں ہے كہ حضرت علی ﴿ع﴾ نے جناب فاطمہ ﴿س﴾ كی شہادت كے بعد متعدد جگہوں پر منجملہ بقيع اور مسجد نبی ﴿ص﴾ اوراپنے گھر میں متعدد قبریں بنائی تھیں۔ البتہ روايت میں ہے كہ جناب فاطمہ زہرا﴿س﴾ كی قبر مخفی ہے اور قبر كا مخفی ہونا پوری تاريخ میں ان كی مظلوميت كی دليل ہے اور انشاءاللہ حجت خدا كےظہور كے وقت مشخص ہو گی۔ بہت سے علماء ، فقہاء ، شيعوں اور سياسی راہنماوں نے بقيع كی تعمير كے لیے كوششیں كی ہیں جن میں سے آيت اللہ حسن شيرازی نے سب سے زيادہ اس راہ میں كوششیں كی تھیں اور انھوں نے اسی سلسلے میں سعودی حكام سے متعدد ملاقاتیں كیں ليكن وہابيوں نے ان كی ان كوششوں كو كامياب نہ ہونے ديا۔ آيت اللہ سيد مرتضی قزوينی" نے آيت اللہ شيرازی كی پہلی برسی كے پروگرام میں لندن كے رسو ل اعظم امام بارگاہ میں ان كی كوششوں كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ عالم اسلام انجمن كے سربراہ " محمد سرور الصبان" نے مجھے كہا كہ بقيع كے اطراف میں چھوٹی چھوٹی تبديلياں انھیں بزرگوار كی كوششوں كا نتيجہ ہیں۔ آخر میں سعودی عرب كے وہابيوں كے ان اسلام مخالف اقدامات كے پيش نظر یہ سوال كرتے ہیں كہ كيا وہابی مسلمان معاشروں كی عظيم مصلحتوں كےبارے میں سوچتے ہیں؟ كيا وہ اسلامی ممالك میں عالمی استكبار كے نفوذ كو روكنے كے لیے سوچتے ہیں؟ كيا انھوں نے صیہونيوں كے اسلامی سرزمينوں میں نفوذ كےمقابلے میں رد عمل دكھاياہے ۔ پيغمبر كی قبر كو چومنے سے ناراض ہونےوالے كيا اسلامی ممالك سےاقتصادی بائيكاٹ پر ناراض ہوتےہیں۔
304609