بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ نوری ہمدانی نے مسجد اعظم قم میں اپنے درس خارج میں اس بات كی طرف اشارہ كيا كہ آج جرمن حكومت كی طرف سے پيغمبر اسلام (ص) كے توہين آميز خاكوں پر مبنی مقابلہ كروايا جا رہا ہے جس پر مسلم حكومتوں اورعوام كو سخت رد عمل دكھانا چاہیے تاكہ آئندہ كسی كو یہ جرأت نہ ہو سكے كہ وہ اسلامی مقدسات كی توہين كا ارتكاب كرے۔ انھوں نے كہا كہ مغرب اپنی علمی ترقی میں رسول اكرم (ص) اور مسلمانوں كا مرہون منت ہے كيونكہ جب پيغمبر اسلام (ص) نے علم ودانش كی اہميت پرزور ديا تب ہی مسلم معاشروں میں علمی بحثوں كو رونق ملی جبكہ اس وقت مغربی ممالك جہالت كی تاريكی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اسكے بعد ہی مسلمان دانشوروں كی كتب مغرب میں تدريس كی گئیں۔ ليكن مغربی ممالك نے اسلام كا نمك كھا كر نمكدان كو توڑا ہے۔ انھوں نے كہا كہ مغربی ممالك نے انقلاب اسلامی ايران كی كاميابی كے بعد اوراسلام كے چہرے سے گردوغبار ہٹنے كے بعد اب ہماری بابت سخت كينہ توزی شروع كر دی ہے۔ لہذا آج جہان اسلام كو بيدار ہونے كی ضرورت ہے تاكہ ان كے ايسے اقدامات كے سامنے بند باندھا جا سكے۔
308405