بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے " الخيمہ" نيوز ايجنسی كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ چين كے جنوب مغرب میں ايك ايسا قصبہ موجود ہے جہنوں نے سات سو سال پہلے اسلام قبول كر ليا تھا اور بہت زيادہ مشكلات كےباوجود ابھی بھی دين اسلام پر قائم و دائم ہیں اور اس خطے نے دين مبين اسلام كی ترقی كےلیے ۴۰۰ كے قريب علماء دين كو پيدا كيا ہے۔ اس قصبے میں ہر روز مساجد سےآذان كی صدا بلند ہوتی ہے۔ اور علماء دين لوگوں كو اسلام كی تعليمات سے آگاہ كرتے ہیں۔ چين كےعالم دين "ناجيا روئی" كا عقيدہ ہے كہ اس دیہات كی بنياد رسول خدا (ص) كی اولاد میں سے كسی نے ركھی ہے۔ لہذا ہمیں اس بات پر فخر ہے۔ انھوں نے مزيد وضاحت كرتے ہوئے كہا كہ تقريبا سات سو سال قبل ايك مسلمان سپہ سالار " ناسھولو" جو كہ رسول خدا (ص) كی اولاد سے تھا اس علاقے میں آيا اور اس قصبے كی بنياد ركھی۔ واضح ر ہے كہ اسی دیہات میں دو مساجد ہیں اور لوگ نماز كےوقت سفيد ٹوپی اور سفيد لباس پہن كر نماز ادا كرتے ہیں۔
315652