بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے اعزازی نامہ نگار نے خيمہ نيوز ايجنسی كے حوالے سے خبر دی ہے كہ اس ماجرے كا آغاز اس وقت ہوا جب ايك لیڈی ريكروٹ نے پوليس كالج كے سربراہ سے سوال كيا كہ كيا وہ پردہ كر سكتی ہے يا نہیں؟ ريگولينڈ كے پوليس سربراہ كا كہنا تھا كہ مردوںاور عورتوں میں دينی رجحان روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں اس تبديلی كےساتھ ساتھ ضروری ہے كہ ہم اپنی ذمہ داری كے اندر رہ كر اس مسئلے كيطرف توجہ كریں۔ اوسلو كے پوليس سربراہ بھی ڈيوٹی كےدوران خواتين كے حجاب كے بارے میں مثبت نگاہ ركھتے ہیں۔ انھوں نے كہا كہ مختلف زمانوں میں ضرورتیں بھی مختلف ہوتی ہیں اور ہم اس مسئلے سے چشم پوشی نہیں كریں گے اور اس قسم كا پوليس میں لباس ہمارے لیے ايك خزانے كی حيثيت ركھتا ہے۔
315654