بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے اعزازی نامہ نگار نےادارہ تبليغات اسلامی جنوبی خراسان سے نقل كيا ہے كہ حجۃ الاسلام ديلمقانی نے كہا كہ لوگ اپنے دين كا زيادہ تر حصہ مساجد میں روحانيت سے يا مذہبی انجمنوں اور دينی تنظيموں سےليتے ہیں اور ان دو اداروں كا شمار اسلامی ممالك كےاہم ترين نقاط قوت میں سے ہوتا ہے۔ كيونكہ جو بھی تحريك ظلم و ستم كےخلاف اٹھتی ہے اس كی جڑ انہی دو اداروں سے منسلك ہوتی ہے۔ انھون نے وضاحت كی كہ دشمنان اسلام فراوان مطالعہ كرنے كے بعد اس مھم كو بہتر كرنے كے لیے اور ان میں سے مداخلت كی فكر ليكر ان تنظيموں كو تباہ يا ختم كرنے كےمقصد سے نكلے ہیں انھوں نےبتايا كہ دشمن چونكہ ان تنظيموں كو ختم كرنے كی صلاحيت نہیں ركھتا تھا اسی لیے ان میں داخل ہو كر ذاكرين كے لب و لہجہ كو تبديل كر كے ان میں موسيقی كا عنصر شامل كر كے ان كی كار كردگی كو كم رنگ كرنے كی كوشش میں ہے۔
317608