بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ۱۲ نومبر ۲۰۰۸ء كو آيت اللہ مكارم شيرازی نے مسجد اعظم قم میں اپنے فقہ كے درس خارج كی ابتداء میں كہا كہ دنيا كے حالات ان كےلیے عبرت ہیں ايك وقت تھا جب امريكہ ترقی كی اوج پر تھا ليكن آج اس كے اقتصاد كا ديوالیہ ہو گيا ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ ترقی يافتہ يورپ میں بھی اقتصادی بحران پايا جاتا ہےاور جن كو اپنی دولت پر بڑا گھمنڈ تھا نہ جانےان كو ان حالات كا سامنا كيوں كرنا پڑا ہے۔ آيت اللہ العظمی مكارم شيرازی نے كہا كہ ہر وہ نگاہ كہ جس میں عبرت نہ ہو وہ غفلت كی نگاہ ہے، ہر وہ كلام كہ جسمیں ذكر خدا نہ ہو وہ بیہودہ كلام ہے اور ہر وہ سكوت كہ جس میں تفكر نہ ہو غفلت ہے۔ آيت اللہ مكارم شيرازی نے وضاحت كی كہ انسانی زندگی رگوں میں خون دوڑنے كا نام ہے اور اس زندگی كا حركت قلب بند ہونے سے خاتمہ ہو سكتا اس لیے انسان كی زندگی كو اس لیے مایہ عبرت ہونا چاہیے تاكہ وہ دنيا سے دل نہ لگائے۔
319769