بوسنيا كے مسلمانوں كا قتل عام ناقابل فراموش ظلم ہے

IQNA

بوسنيا كے مسلمانوں كا قتل عام ناقابل فراموش ظلم ہے

سماجی گروپ: بوسنيا ہر زگوينہ كےمفتی نے كہا كہ بوسنيائی مسلمانوں كا قتل عام ناقابل فراموش ظلم ہے

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق روزنامہ" ينی آواز" نے لكھاہے كہ بوسنيا ہرزگوينہ كےمفتی "مصطفی افندی تسريچ" نے كہا ہے كہ بوسنيائی مسلمانوں كا قتل عام تاريخ كی وہ ہولناك جنايت ہے جسے فراموش نہیں كيا جا سكتا ان خيالات كا اظہار انھوں نے مسلمانوں كےاجتماعی محل دفن كے دورہ كے موقع پر كيا اور كہا كہ یہ خيانت صرف اور صرف قابل مذمت ہے انھوں نے مزيد كہا كہ اس واقع كےذمہ دارافراد كو كبھی آرام نصيب نہیں ہو گا۔ كيونكہ وہ جانتے ہیں كہ عدالت الہی محقق ہو گی اورايك دن اس ظلم كا جواب دينا ہوگا۔
انھوں نے۱۱ جنوری كو عام سوگ كا اعلان كيا اور كہا كہ اس حوالے سے اگر كسی كو شك و ترديد ہےتو وہ آئے اور ان اجتماعی قبروں كا دورہ كرے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ يورپين معاشرے كو شرم سے مرجانا چاہیے كہ اس ہولناك خيانت كا ارتكاب كرنے والے ابھی دندناتے پھر رہےہیں اور مصيبت زدہ مائیں ار بہنیں انہیں ديكھ رہی ہیں۔ انھوں نے كہا كہ ۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۵ كے دوران دو دن میں آٹھ ہزار مسلمانوں كا قتل عام كيا گيا اور مسلمانوں كا قصور یہ تھا كہ وہ يوگو سلاویہ سے عليحدگی چاہتے تھے۔
320652