بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" سے گفتگو كرتے ہوئے آسٹريليا كے سابقہ مفتی " تاج الدين الہلالی" نے كہا كہ قرآن سے بعنوان اصلی ترين مصدر شريعت اسلامی تمسك كرنے كی ضرورت ہے۔ الہلالی نے اسلامی اعتدال پسندی كانفرنس میں ايكنا سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ امت اسلامیہ علم و دانائی كی امت ہے كيونكہ خداوند تعالی نے اپنے محبوب پيغمبر اكرم (ص) پرپہلی وحی نازل كی اس میں فرمايا( پروردگار كے نام سے پڑھو، انسان كو علق سے پيدا كيا گيا ہے پڑھو كہ تمہارا پروردگاركريم ترين پروردگار ہے) انہی آيات كے مفہوم سے یہ بات سمجھی جا سكتی ہےكہ دين اسلام علم و معرفت كا دين ہے اور ان آيات كے علاوہ كئی احاديث میں بھی متعدد مرتبہ علم كے حصول پر تاكيد كی گئی ہے۔ ليكن سوال یہ ہے كہ ايسی امت كے اولين كلام كا تعلق ہی " اقراء" سے ہے اس میں ناخواندگی كيوں زيادہ ہے ،علم و معرفت میں یہ امت دوسری امتوں سے كيوں پسماندہ ہے جبكہ قرآن میںبہت زيادہ تاكيد ہوئی ہے كہ عزت ، شرف اور كرامت كا دور ہے اب یہ عزت اور وقار اس امت كو جب ہی نصيب ہو گا كہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت كو مضبوط كریں اور خدا كی رسی كو مضبوطی سے تھامے ركھیں۔ دشمن كی پوری كوشش ہے كہ مسلمانوں كے درميان منافرت اور اختلافات كو ہوا دے جبكہ امت اسلامی كی ذمہ داری بنتی ہے كہ وہ فرقہ وارانہ كشيدگی سے پرہيز كریں اور زيادہ سے زيادہ اپنی صفوں میں اتحاد و يكجہتی كو فروغ دیں۔ تب وہ عزت ، شرف كی زندگی كر سكیں گےاور اس سے وہ ناخواندگی جيسے مسائل كا بھی كوئی معقول راہ حل نكال سكیں گے۔
323148