بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق " اسلام آن لائن" نےلكھا ہے كہ صلح كی غرض سےیہودی اور مسلم رہنماوں كے اس سيمينار كا آغاز " قداست صلح" كے نعرہ سے كيا گيا۔جس میں ۸۵ مسلمان اور یہودی دانشوروں نے اسرائيل ، فلسطين ، اردن، سوریہ، امريكہ، يورپ، اور اسٹريليا سے شركت كی ہے۔ شمالی پيرس كے شہر " درونسی" میں مسلمانوں كی انجمن كے سربراہ " حسن شلفوی" نے اسلام آن لائن سےگفتگو كرتے ہوئے كہا كہ اس سيمينار كا انعقاد كا مقصد اسلامی اور یہودی رہنماوں كا ملكر دنيا میں صلح و آشتی زندگی گزارنے كے لیے مناسب راہ حل فراہم كرنا ہے تاكہ دونوں اديان كے پيروكار بہترين انداز میں زندگی بسر كر سكیں۔ انھوں نے كہا كہ فرانس میں ہم نے مسلمانوں اور یہوديون كےدرميان مسالمت آميز زندگی كا تجزیہ كيا ہے اور ہم چاہتے ہیں كہ اس تجزیہ كو مذكورہ سيمينار كے ذريعہ دوسروںتك بھی منتقل كریں. انھوں نے مزيد كہا كہ ہماری ہميشہ سے یہ كوشش رہی ہے كہ یہودی اور مسلمانو ں كے مشتركات پر تاكيد كریں اور اختلافی نكات كو بڑھا چڑھا كر پيش كرنے سے اجتناب پر زور دیں۔ انھوں نے اس سلسلہ كے پہلے سيمينار كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ پہلا سيمينار ۲۰۰۵ء كو بلجيئم كےدارالحكومت بروكسل میں ہوا تھا جبكہ دوسرا سيمينار اسپين كے شہر سويا، میں ۲۰۰۶ء كو منعقد كيا گيا تھا۔
334814