بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا"شعبہ قم كی رپورٹ كےمطابق آيت اللہ العظمی حسين نوری ہمدانی نےصوبہ قم كےمحكمہ تعليم كے ملازمين سےخطاب كرتے ہوئے فرمايا كہ اس آيت میں بہت تاكيد پائی جاتی ہے جس سےكام كی اہميت اور مقام كا اندازہ لگايا جا سكتا ہے۔ اسلام میں مصروف رہنے كی بہت اہميت ہے اور كام كرنے كو عبادت قرار ديا گيا ہے۔ انھوں نے كہا كہ حكومت كی ذمہ داری ہے كہ " انفال" كے ذريعہ " يعنی ايسے اموال جو درياوں ، سمندروں، پہاڑوں، بنجر زمينوں، مجھول المالك زمينوں كو شامل ہیں اور یہ اموال نبی ، امام اور ان كے جانشين كے اختيار میں ہوتے ہیں" ايسے افراد كی مدد كرے جو بيروز گار ہیں۔ جناب نوری ہمدانی نے كہا كہ اسلام میں كسی خاص جنس كو اہميت حاصل نہیں بلكہ وہ چيز جو اسلام میں اہميت كا باعث بنتی ہے وہ تقوا، عمل صالح، اخلاق و جہاد ہے۔ انھوںنے كہا كہ جن لوگوں كی یہ فكر ہے كہ اسلام عورت كی اہميت اور مقام كا قائل نہیں ہے یہ جاہلانہ فكر ہے اور قرآن و اہلبيت (ع) كی نظر میں عورت اور مرد ہر دو كا خاص مقام ہے اور ان میں برتری كا معيار تقوا اور علم ہے۔
334886