ذاكرين كرام واقعہ كربلا كو بيان كرنے میں غلو سےپرہيز كریں

IQNA

ذاكرين كرام واقعہ كربلا كو بيان كرنے میں غلو سےپرہيز كریں

اجتماعی گروپ: ذاكرين كرام اور شعرا كو چاہیے كہ واقعہ كربلا كو بيان كرتے وقت جذبات اور غلو سے پرہيز كریں۔
اردبيل تبليغات اسلامی كے سربراہ حجۃ الاسلام " مہدی ستودہ " نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" سے خصوصی گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ امام حسين نے يزيد كے خلاف قيام كر كے اس فكر كو پروان چڑھا ديا ہے كہ اسلام كبھی بھی ظالموں كے سامنے سر تسليم خم نہیں كرتا اور انسانوں كی عزت كو آزادی میں قرار ديتا ہے۔ " مہدی ستودہ " نے واقعہ غدير كی تاريخ اور اس سلسلہ میں وقوع پذير ہونے والی كجرويوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ رسول خدا(ص) كی رحلت كے بعد اسلام میں عجيب و غريب قسم كے انحرافات پيدا ہو گئے ان میں سے كچھ كی اصلاح حضرت امام علی (ع) اور حضرت امام حسن (ع) كے دور میں ہوئی ليكن قيام امام حسين نے اسلام كو حيات نو بخشی اور مسلمانوں كو بدعتوں سے نجات عطا كی۔ ادارہ تبليغات اسلامی كےسربراہ نے اسلامی معاشرے كے لیے امامت كو خداوند عالم كا ايك عظيم الشان عطیہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ جس زمانے میں بھی لوگوں نے راہ ولايت سے انحراف كيا انہیں ضلالت اور گمراہی كے سوا كچھ بھی نہ مل سكا۔ انھوں نے ذاكرين اور شعراء سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ ذاكروشاعركی اہميت غلو آميز اشعار پڑھنے میں نہیں ہے بلكہ كربلا كے حقائق بيان كرنے میں ہے۔
337319