حداد عادل: اسلامی ثقافت كے ذريعہ ہی اسلامی تمدن كا احياء ممكن ہے

IQNA

حداد عادل: اسلامی ثقافت كے ذريعہ ہی اسلامی تمدن كا احياء ممكن ہے

سماجی گروپ: پارليمنٹ میں ثقافتی كميشن كے سربراہ نے كہا ہے كہ اسلامی ثقافت كو اپنائے بغير اسلامی تمدن تك رسائی ممكن نہیں ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق "ايرنا نيوز" نے رپورٹ دی ہے كہ فارابی كے حوالے سے منعقد كیے گئے دوسرے عالمی فيسٹيول سے خطاب كرتے ہوئے ڈاكٹر غلام علی حداد عادل نے كہا كہ اسلامی تہذيب و ثقافت كو يورپ كے مقابلے میں لانے كے لیے ايك نئی تعريف كی ضرورت ہے اور وہ نئی تعريف صرف اسلامی تعريف ہی ہو سكتی ہے۔ ہم اسلامی جمہوریہ ايران كی تاسيس كے ذريعہ اب اسلامی تہذيب تك رسائی حاصل كر سكتے ہیں۔ انھوں نے كہا كہ ہم اپنی تہذيب سے واقف ہیں فلسفہ ، عرفان اور اخلاق اسلامی ماضی كے قصے نہیں كہ ہم انہیں ميوزيم میں تلاش كریں بلكہ ہمارے زندہ حقائق ہیں۔ انھوں نے فارابی عالمی فيسٹيول سےخطاب كرتےہوئے كہا ايران كے اسلامی انقلاب كو صرف ايك شہنشاہی حكومت ہٹانے تك محدود نہ كيا جائے بلكہ سياسی نظام كی تبديلی سے ہمیں ايك مستقل تہذيب اور انسانی علوم تك رسائی حاصل ہوئی ہے۔ حداد عادل نے كہا كہ اسلامی حكومت كے بانی امام خمينی عظيم انسان شناس اور اسلام شناس تھے، وہ انقلاب كی سياسی قيادت سنبھالنے سے پہلے حوزہ علمیہ كے استاد اور معلم اخلاق تھے،امام خمينی (رح) كی علوم انسانی كی بابت معلومات كوگوربا چوف كو بھيجے گئے پيغام میں ديكھا جا سكتا ہے۔ انھوں نے فيسٹيول كے حوالے سے كہا كہ یہ فيسٹيول ان تمام انسانوں كے اعزاز میں ہے جنہوں نے انسان كو احترام كی نگاہ سےديكھا ہے۔