ايرانی پارليمانی ركن غلام حسين مسعودی ريحان نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ مشرقی آذربائيجان كو انٹرويو ديتے ہوئے كہا كہ آج كے اس ترقی يافتہ دور میں بھی كسی عالمی تنظيم كو یہ جرائت نہیں ہوئی كہ وہ صیہونی وحشيانہ كاروائياں روكنے كے سلسلہ میں كوئی اقدام كرے۔ آج ہر انصاف پسند انسان كے ذہن میں یہ سوال ابھر رہا ہےكہ آخر ان بين الاقوامی اداروں اورسلامتی كونسل كا كيا فائدہ جو اتنے مظالم كےباوجود خاموش تماشائی بنےہوئےہیں۔ مسعودی ريحان نے مزيد كہا كہ كيا وجہ ہےكہ اگر افغانستان يا عراق میں اتحادی افواج كا ايك بھی فوجی مارا جاتا ہے تو فوراً اس ملك كا سربراہ وہاں پہنچ جاتا ہے ليكن غزہ میں ہر روز ۲۰۰ سے ۳۰۰ افراد بے گناہ مارے جاتے رہے ليكن ان كا كوئی پرسان حال نہیں۔ انھوں نے انسانی حقوق اورجمہوريت كا راگ الاپنے والے اداروں سے مطالبہ كيا ہے كہ اسرائيل كو مزيد ايسے اقدامات سےباز ركھیں۔ انھوں نے آخری ہفتہ میں ہونے والے اسرائيلی مظالم كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ پوری تاريخ میں ايسے دردناك مظالم ديكھنے میں نہیں آتے۔
350114