دمشق میں " جہاد كی قانونی حيثيت اور جنگی مجرموں كو كيفر كردار تك پہنچانے" كے عنوان پر اجلاس

IQNA

دمشق میں " جہاد كی قانونی حيثيت اور جنگی مجرموں كو كيفر كردار تك پہنچانے" كے عنوان پر اجلاس

سماجی گروپ: " جہاد كی قانونی حيثيت اور جنگی جرائم میں ملوث افراد كو ان كے منطقی انجام تك پہنچانے" كے عنوان پر اجلاس دمشق يونيورسٹی كے تعاون سے اس شہر میں منعقد كيا گيا۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' شعبہ سوریہ كی رپورٹ كے مطابق سوریہ كی سركاری خبررساں ايجنسی " سانا" كا كہنا ہے كہ سابقہ مصری وزير خارجہ كے معاون " عبداللہ الاشعل" نے اس اجلاس سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ غزہ میں جنگ كی آگ بھڑكانہ اسرائيل كی نسل كشی كے سابقہ اقدامات كی ہی كڑی ھے جس كا آغاز انھوں نے ۱۹۴۸ء میں كيا تھا صرف سابقہ اسرائيلی مظالم اور حالیہ مظالم میں یہ فرق تھا كہ اب كے مظالم كو دنيائے نے ذرائع ابلاغ كے ذريعہ براہ راست ديكھا ہے جبكہ سابقہ اس طرح نہ تھا۔ انھوں نے غزہ میں ھونے والے اسرائيلی مظالم كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ ان جرائم كی قانونی چارہ جوئی عربی اور عالمی اداروں كے ذريعے ہونی چاہیے اور اب تك غير عربی اداروں كی طرف سے ۱۵۰ شكايت نامے عالمی عدالت میں جمع كروا دیے گئے ہیں جن میں تين معتبر اسناد و مدارك بھی شامل ہیں جو اسرائيلی جرائم كو ثابت كرنے میں مركزی كردار ادا كر سكتے ہیں۔
367376