بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق مصلحت نظام كونسل كے تعلقات عامہ نے كہا ہے كہ آيت اللہ رفسنجانی نے عراقی صدر جلال طالبانی سےملاقات كی ہے جس میں ايران اور عراق كے دو طرفہ تعلقات كےفروغ پر تفصيلی تبادلہ خيال كيا گيا اور كہا گيا كہ صدام كے سقوط كے بعد دونوں ممالك كے تعلقات انتہائی خوشگوار ہیں اور دونوں ممالك میں سياسی ، اقتصادی ،تجارتی اور ثقافتی تعلقات میں تيزی دونوں ممالك كے لیے مفيد واقع ہو گی۔ ھاشمی رفسنجانی نے كہا كہ صدام كے بعد جمہوری اداروں كے فروغ میں انتہائی تيزی آئی ہے اور اس سے عراق كے ثبات اور امن و امان میں خاصی مدد ملی ہے۔ انھوں نےمزيد كہا كہ ملت اسلامیہ كے اتحاد و يكجہتی سےعالمی استكبار كی سازشوں كامنہ توڑ جواب ديا جا سكتا ہے اور آج استكبار كی پوری كوشش ہے كہ وہ مسلمانوں میں فرقہ واريت كو ہوا دے كر اپنے مذموم مقاصد كو حاصل كرے اور اسكے ان عزائم كو خاك میں ملانے كے لیے مسلمانوں كا باہمی اتحاد بہت ہی ضروری ہے۔
370117