بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق یہ اقدام انٹرپول كے قانون كی شق نمبر۲كی بنياد پر اور جنيوا معاہدے كے تحت كيا گيا ہے۔ اٹارنی جنرل نے تحقيقی رپورٹ میں اسرائيل كے ۱۵ اعلی حكومتی عہدہ داروں كے خلاف جنگی جرائم كی فائل انٹرپول كے حوالے كر دی ہے اور ۱۰۰ افراد كی فہرست پر ابھی تحقيقات جاری ہیں۔ جن جنگی مجرمين كی فہرست جاری كی گئی ہے ان كی تصاوير اور ان پر لگائے گئے الزامات كی فائل انٹرپول اور پھر ۱۸۰ ممالك كو جاری كر دی ہے۔ ان ۱۰ افراد میں اسرائيلی وزير اعظم الیہود اولمرٹ، وزير جنگ الیہود باراك، وزير خارجہ تزيپی لوينی،مسلح افواج كے سربراہ راؤ آلوف گابی، ائرچيف مارشل آیڈو نيوہاشٹن ، اور كئی دوسرے فوجی كمانڈر شامل ہیں۔ ۲۷ دسمبر ۲۰۰۸ء كو اسرائيلی افواج كی طرف سے غزہ كے طولانی محاصرہ كے بعد پہلا ہوائی حملہ كيا گيا جس میں غزہ كے گنجان آبادی والے علاقوں كو نشانہ بنايا گيا اور ۳ فروری ۲۰۰۹ء كو جنگ كے دوسرے مرحلے میں زمينی حملے شروع ہوئے جن كے نتيجے میں ۱۲۸۵ فلسطينی مارے گئے جن میں ۱۱۱ خواتين ۲۸۱ بچے شامل تھے اس جنگ میں ۲۴۰۰ گھر ويران ہوئے ۲۹ سكول اور ۳۰ مذہبی مقامات كو مسمار كيا گيا تھا۔
371404