بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق مصلحت نظام كونسل كےسربراہ آيت اللہ اكبر ہاشمی رفسنجانی نے مالی كے پارليمنٹ كےاسپيكر سےملاقات میں كہا كہ ايران اور مالی دينی مشتركات كےعلاوہ بہت سے مسائل میں ايك دوسرے كے شريك ہیں۔ انھوں نے كہاكہ اسلامی اورتيسری دنيا كےممالك كے ساتھ تعاون اسلامی جمہوریہ ايران كی خارجہ پاليسی كا حصہ ہے اور اسلامی جمہوریہ ايران مالی كےساتھ بہتر تعلقات كا خواہاں ہے گزشتہ ادوار میں دونوں ممالك كےدرميان زراعت ،پانی، اورسٹركوں كی تعمير میں تعاون رہا ہے۔ آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نےمزيد كہا كہ اسلامی جمہوریہ ايران نےہميشہ مظلوموں كی حمايت كی ہے اور ا سكے لیے ہمارے ملك نے بہت زيادہ سرمایہ كاری كی ہے۔ مصلحت نظام كونسل كےسربراہ نےكہاكہ امريكہ كی عراق اور افغانستان میں ناجائز موجودگی كی وجہ وہاں كے طبيعی منابع پر قبضہ كرنا ہے۔ استكبار عالم كےتسلط سےخاتمے كا واحد حل اسلامی اور تيسری دنيا كے ممالك كا ايك دوسرے سےتعاون ہے۔ مالی كےپارليمنٹ كےاسپيكر نےاس ملاقات میں اظہار خيال كرتےہوئے كہا كہ مالی كےساتھ اسلامی جمہوریہ ايران كااقتصادی تعاون قابل تعريف ہے اور عنقريب ايران مالی میں بجلی كی پيداوار كے لیے ڈيم بنانے كے منصوبے كا افتتاح كر رہا ہے۔
375217